سلمان رشدی کوچاقوگھونپنے والا مشتبہ ملزم لبنانی نژاد نکلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا کے شہر نیویارک میں سلمان رشدی کو چاقو گھونپنے والے ملزم ہادی مطرکا آبائی تعلق لبنان کے جنوب میں واقع گاؤں یارون سے ہے۔

لبنان کے روزنامہ النہار نے ہفتے کے روز خبردی ہے کہ نوجوان ملزم لبنانی نژاد ہے۔یارون کی بلدیہ کے سربراہ علی قاسم طحفی نے اخبارکو بتایا کہ مطر کے والد اور والدہ دونوں کا تعلق ان کے گاؤں سے ہے۔البتہ احمد مطرامریکا میں پیدا ہوااور وہ کبھی یارون نہیں آیا۔

لبنانی نژاد حملہ آور نے بھارت نژاد ناول نگارسلمان رشدی پرجمعہ کو نیویارک ریاست میں ایک لیکچر کے دوران میں گردن پر چاقو سے وار کیا تھا۔پھررشدی کوہیلی کاپٹرکے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

75سالہ رشدی کو اس وقت نیویارک کےمغرب میں واقع شوٹاکواانسٹی ٹیوشن میں فنکارانہ آزادی کے موضوع پر سیکڑوں سامعین سے گفتگو کرنے کے لیے متعارف کرایا جا رہا تھا۔تب ایک شخص اچانک اسٹیج پر پہنچا اوراس نے رشدی پر چاقو سے پے درپے وار شروع کردیے جس سے وہ زخمی ہوگیا۔

پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آور نیو جرسی کے علاقے فیئرویو سے تعلق رکھتا ہے۔اس کی عمر 24 سال اور نام ہادی مطر ہے۔اس نے بھی تقریب میں شرکت کا پاس خریدکررکھا تھا۔

توہین رسالت کے مرتکب سلمان رشدی بھارت کے تجارتی شہربمبئی(اب ممبئی)میں ایک مسلم کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔اس کے بعد وہ برطانیہ چلے گئے تھے۔وہ ایک طویل عرصے سے اپنے چوتھے ناول شیطانی آیات (دی سیٹینک ورسز) میں اسلام کی مقدس شخصیات کے خلاف توہین آمیزمواد لکھنے پرروپوشی کی زندگی گزاررہے ہیں۔

رشدی کا یہ متنازع ناول 1988ء میں شائع ہوا تھا۔اس میں شامل توہین آمیزاور گستاخانہ مواد پر سب سے پہلے بھارت میں وزیراعظم راجیوگاندھی کی حکومت نے اس ناول کی اشاعت پرپابندی عاید کی تھی۔اس کے کثیرمسلم آبادی والے بیشترممالک میں اس کی اشاعت پرپابندی عاید کردی گئی تھی۔

اس کے چند ماہ کے بعد 1989ء میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈرآیت اللہ روح اللہ خمینی نے ایک فتویٰ یا مذہبی فرمان جاری کیا تھاجس میں مسلمانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس ناول نگاراورکتاب کی اشاعت میں شامل کسی بھی شخص کو توہین رسالت کے الزام میں قتل کردیں۔ایران نے رشدی کے سرکی قیمت بھی مقرر کررکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں