روس اور یوکرین

یواے ای اوریوکرین کے وزرائے خارجہ کا دوطرفہ تعلقات پرتبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زایدآل نہیان نے ایک فون کال میں اپنے یوکرینی ہم منصب دمیترو کلیبا کے ساتھ روس یوکرین تنازع کی تازہ صورت حال پرتبادلہ خیال کیا ہے۔

امارات کی سرکاری خبررساں ایجنسی وام کے مطابق وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تعلقات ، ان کے فروغ کے طریقوں اورمشترکہ مفادات کے دیگرامور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

فون کال میں متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ نے یوکرین، روس اور ترکی کے درمیان یوکرین کی بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے اناج کی برآمدات کی بحالی کی اجازت دینے کے معاہدے کی تعریف کی۔اس معاہدے کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل ہے۔

22جولائی کو یوکرین اورروس نے ترکی اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔اس کا مقصد بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے اناج کی ترسیل کی بندش سے پیدا ہونے والے عالمی غذائی بحران پر قابو پانا تھا۔اس کے تحت اب اناج کی ترسیل کی اجازت دے دی گئی ہے۔

یوکرین کی بنیادی ڈھانچے کی وزارت نے ہفتے کے روز بتایا کہ اس معاہدے کے تحت اگست کے اوائل سے 4لاکھ 50 ہزارٹن زرعی اجناس لے جانے والے 16بحری جہاز یوکرین کی سمندری بندرگاہوں سے روانہ ہوچکے ہیں اوران کے آبی راستوں کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے معاہدے کے حصے کے طور پر استنبول میں ایک مشترکہ رابطہ مرکزقائم کیا گیا ہے۔اس کے ذریعے غذائی اجناس لے جانے والے تمام جہازوں کا معائنہ کیا جاتا ہے۔اس مرکز میں روس، یوکرین،ترکی اور اقوام متحدہ کے اہلکار کام کرتے ہیں۔

ان کے بنیادی تفویض کارمیں یوکرینی اناج سے لدے جہازوں کے محفوظ راستے کی نگرانی اور بحیرہ اسود کے ذریعے ممنوعہ ہتھیاروں کی ترسیل کی نگرانی شامل ہے۔

روس اور یوکرین دونوں دنیا کے دو بڑے اناج برآمد کنندگان ہیں۔ ان کی گندم کی ترسیل میں رکاوٹ سے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔جس نے دنیا کے کچھ غریب ترین ممالک کے لئے خوراک کی درآمدات کو انتہائی مہنگا کردیا ہے۔

عبداللہ بن زاید نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے یوکرین میں تنازعہ کا پرامن حل تلاش کرنے اور بحران کے سیاسی تصفیے تک پہنچنے کی تمام کوششوں کی حمایت کا بھی اعادہ کیا۔

یوکرینی وزیرخارجہ نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ میں یوکرین کی حمایت اور انسانی امداد مہیا کرنے پر متحدہ عرب امارات کے شکر گزار ہیں۔ یوکرین کی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کلیبا کے حوالے سے کہا گیا کہ اماراتی فریق کو یوکرین کے ’’تیزرفتار بحالی منصوبے‘‘ میں فعال حصہ لینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ جولائی میں متحدہ عرب امارات نے بلغاریہ میں یوکرینی پناہ گزینوں کو 52 میٹرک ٹن خوراک مہیا کرنے کے لیے ایک طیارہ بھیجا تھا۔ اس کے علاوہ پولینڈ میں یوکرینی پناہ گزینوں کے لیے 27 ٹن خوراک اور طبی سامان بھیجا تھا۔

یہ امدادی سامان جنگ زدہ ملک کے ہمسایہ ممالک میں یوکرینی پناہ گزینوں کو درپیش انسانی اثرات کو کم کرنے کے لیے یواے ای جانب سے مہیا کی جانے والی مسلسل امداد کا حصہ ہے۔اس نے اقوام متحدہ کی انسانی امداد کی اپیل کے جواب میں یوکرین کوایک کروڑ 83لاکھ اماراتی درہم (50لاکھ امریکی ڈالر) مالیت کی امداد عطیہ کے طورپردینے کا اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں