افغانستان وطالبان

’ایک بیٹا جہاز سے لٹک کر ہلاک ہوگیا، دوسرے کا کوئی نام ونشان نہیں‘

فرار کی کوشش میں امریکی کارگو جہاز سے گرنے والے افغانی کا والد منظر عام پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

افغانستان سے تباہ کن امریکی انخلاء کی پہلی برسی قریب آتے ہی ایک انتہائی ہولناک سانحے کا شکار ہونے والے ایک نوجوان کی المناک موت کا واقعہ بھی ذہن میں تازہ ہو رہا ہے۔

17 سالہ زابی رضائی ان مایوس شہریوں میں سے ایک تھے جنہوں نے 16 اگست 2021 کو کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے رن وے پر جاتے ہوئے امریکی فضائیہ کے C-17 طیارے کے لینڈنگ گیئر اور وہیل کور کو پکڑ لیا۔ جہاز کے زمین سے فضا میں بلند ہوتے ہی وہ گر گیا۔

زابی رضائی کے والد نے اپنے بیٹے کی المناک موت کے بارے میں لندن سے شائع ہونے والے’ سنڈے ٹائمز‘ سے بات کی۔

محمد رضائی نے کہا کہ مقتول کا 19 سالہ بھائی ذکی جو اپنے بھائی کی طالبان سے فرار کی کوشش میں شامل تھا کا اس کے بعد کوئی پتا نہیں۔

42 سالہ رضائی نے کہا کہ "میں تکلیف میں ہوں، میں غصے میں ہوں، لیکن میں کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے اپنے بیٹے کو دفن کردیا ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ میرا دوسرا بیٹا زندہ ہے یا مر گیا ہے۔"

خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کے ڈرامائی قبضے اور امریکی فوج کے فرار کے دوران جہازوں سے لٹک کر گرنے کے واقعات کی ویڈیوز نہ صرف جنگل کی آگ کی طرح پھیلیں بلکہ ان واقعات نےایک بار پھر دنیا کی توجہ جنگ زدہ افغانستان اور اس میں موجود افراتفری کی طرف مبذول کرائی۔

کم از کم پانچ ممکنہ مسافرفرار کی کوشش میں جہازوں سے گر کر ہلاک ہوئے، حالانکہ صحیح تعداد کبھی قائم نہیں ہو سکی ہے۔

دو افراد رہائشی محلے میں گرے اور ایک گھر کی چھت پر گرا اور ایک لاش قطر میں اترتے وقت طیارے کے پہیے سے نیچے گری تھی۔

آٹھ بچوں کے والد رضائی نے غصے سے کہا "میں پائلٹ کو مورد الزام ٹھہراتا ہوں اور امریکیوں پر الزام لگاتا ہوں جو ہوائی اڈے کی حفاظت کے ذمہ دار تھے۔"

غمزدہ باپ نے پوچھا کہ پائلٹ نے ٹیک آف کرنے کا فیصلہ کیوں کیا جب اسے معلوم تھا کہ لوگ جہاز کو پکڑے ہوئے ہیں؟۔

انہوں نے مزید کہا، "مجھے نہیں لگتا کہ جو لوگ جہاز سے چمٹے ہوئے تھے، انہوں نے واقعی یہ سوچا تھا کہ طیارہ جا رہا ہے۔"

وہ ملک سے فرار ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں

دونوں نوجوانوں نے اپنے والدین کو ملک سے فرار ہونے کے اپنے منصوبے کے بارے میں نہیں بتایا۔ ان کے والد نے کہا کہ "مجھے معلوم ہوا جب مجھے ایئرپورٹ سے ان کا فون آیا۔ وہ پرجوش تھے اور ملک سے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جہاز میں سوار ہونے والے ہیں۔ میں ان کے لیے خوش تھا کہ وہ ایک محفوظ مقام کی طرف روانہ ہو رہے ہیں، کیونکہ ہم سب بہت خوفزدہ تھے کہ طالبان کے کنٹرول کے ساتھ یہاں کیا ہوگا۔" کال صرف ایک یا دو منٹ تک جاری رہی۔ یہ میری ان سے آخری بار بات تھی۔

چند منٹ بعد ایک اجنبی نے اس کے بیٹے کی موت کی اطلاع دینے کے لیے فون کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے اسے کٹا ہوا پایا اور کسی نے اس کے ننگے جسم پر اسکارف ڈالا ہوا تھا اور اس کا نچلا حصہ کچلا ہوا تھا‘‘۔

جہاں تک دوسرے بیٹے کا تعلق ہے تو اب تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ کابل کے اسپتالوں اور جیلوں میں باپ کی تلاش کے باوجود ان کے بڑے بیٹے ذکی کی موجودگی کا کوئی نشان نظر نہیں آیا۔

افسوسناک صورتحال

انہوں نے کہا کہ آج تک مجھے ذکی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں۔ اس کی اہلیہ شدید صدمے میں ہے۔

دل گرفتہ افغانی نے کہا کہ میرے دونوں بچے نہایت شریف تھے۔ انہیں فٹ بال کھیلنا پسند تھا۔

وہ پڑھے لکھے تھے، ذکی انگریزی بول سکتے تھے اور وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کو تھوڑا بہت سکھایا کرتے تھے۔

یہ خاندان غربت اور بدحالی کے ساتھ جدوجہد کر رہا ہے، کیونکہ طالبان کی گرفت نے ملک کی نصف آبادی کو فاقہ کشی کی طرف دھکیل دیا ہے۔

رضائی نے کہا کہ اپنے بیٹوں کی مدد کے بغیر وہ مزید پھلوں اور سبزیوں کی دکان نہیں چلا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اپنے بچوں پر غصہ کرنا وقت کا ضیاع ہے۔ مجھے اس توانائی کو اپنے باقی بچوں کی کفالت کا راستہ تلاش کرنے کے لیے استعمال کرنا ہوگا، لیکن میں یہ جاننے کے لیے کچھ بھی کروں گا کہ ذکی کے ساتھ کیا ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں