’’سلمان رشدی پر حملہ: ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دیا جائے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

برطانیہ میں ٹوری پارٹی کی طرف سے وزارت عظمیٰ کی امیدواریت کے لیے کوشش کرنے والے بھارتی نژاد رشی سوناک نے کہا ہے کہ سلمان رشدی پر حملے کے بعد برطانیہ کو چاہیے کہ وہ ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دے۔ رشی سوناک نے ایران پر مزید پابندی لگانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

رشی سوناک نے ایک بیان میں کہا 'ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں پرانے معاہدے کو بحال کرنے کے بجائے ایک نئے اور زیادہ سخت معاہدے کی طرف جانا چاہیے۔ اگر ہم کوئی نتائج حاصل نہیں کر سکتے، تو پھر ہمیں 2015 کے جوہری معاہدے کے بارے میں یہ پوچھنا شروع کرنا چاہیے کہ کیا یہ معاہدہ اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے؟‘‘

خیال رہے 24 سالہ لبنانی نژاد امریکی شہری ہادی مطر نیو جرسی کا رہنے والا ہے جس نے رشدی پر چاقو سے حملہ کیا ہے۔ اس کی گرفتاری کے بعد یہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ ہمدردیاں رکھتا ہے۔ یہ بات امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے سے این بی سی نے رپورٹ کی ہے۔

تاہم سرکاری حکام نے خود ہی یہ بھی کہا ہے کہ اس بارے میں کوئی حتمی اور ٹھوس چیز سامنے نہیں آئی ہے۔ ہادی مطر اور ایرانی پاسداران انقلاب کے درمیان کوئی تعلق ہے۔ لیکن رشی سوناک کا کہنا کہ رشدی پر حملے کے بعد ایران کا سامنے آنے والا رد عمل اس مطالبے کو تقویت دیتا ہے کہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد گروہ قرار دیا جائے۔

واضح رہے ابھی تک ایران کی طرف سے رشدی حملے پر کوئی سرکااری بیان یا رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم ایرانی اخبارات بشمول کیہان میں اس حملے کی تحسین کی گئی ہے۔ خیال رہے کیہان کے ایڈیٹر کی تقرری ایرانی رہبر کرتا ہے۔ ایران کے اس سرکاری اخبار نے سرخی جمائی کہ ’’تیز دھار آلے سے شیطان کی گردن کٹ گئی۔‘‘

پچھتر سالہ سلمان رشدی نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف توہین آمیز کتاب لکھنے کے بعد کئی سال پہلے سے بھارت سے جان بچا بھاگا ہوا ہے۔ اسے نیو یارک میں ایک تقریب کے دوران چاقو سے وار کر کے شدید زخمی کر دیا گیا ہے۔ رشی سوناک آبائی طور پر سلمان رشدی کے ساتھ ہم وطنی کے رشتے میں منسلک ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں