ایران جوہری معاہدہ

ایران آج شب یورپی یونین کے جوہری متن کا جواب دے گا،’پلان بی‘ بھی تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایرانی وزیرخارجہ حسین امیرعبداللہیان نے کہا ہے کہ ایران پیر کی نصف شب تک یورپی یونین کے ’’حتمی‘‘متن کا جواب دے گا۔انھوں نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ 2015 کے جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے باقی تین مسائل کے حل میں لچک کا مظاہرہ کرے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم کسی ایسے معاہدے تک نہیں پہنچنا چاہتے کہ جس کو40 دن کے بعد، دو ماہ یا تین ماہ میں برسرزمین عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہیں۔ہم نے انھیں بتایا ہے کہ ہماری سرخ لکیروں کا احترام کیا جانا چاہیے‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ ’’خاص طور پر،تین مسائل اہم ہیں .... اگر یہ تینوں مسائل حل ہوجاتے ہیں تو ہم کسی معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں لیکن اس معاہدے کی بحالی میں ناکامی دنیا کا خاتمہ نہیں ہوگی‘‘۔ان کے بہ قول آنے والے دن بہت اہم ہیں۔

ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ’’اگرواشنگٹن نے باقی مسائل کے حل کے لیے لچک کا مظاہرہ نہیں کیا تو ہمیں مزید مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔واشنگٹن کے ساتھ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو ہمارا اپنا ’منصوبہ بی‘ بھی ہے۔

واضح رہے کہ یورپی یونین نے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری مذاکرات کے رابطہ کار کی حیثیت میں کہا ہے کہ گذشتہ ہفتے اس نے ویانا میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان چارروز تک بالواسطہ بات چیت کے بعد ایک ’حتمی‘متن پیش کیا تھا۔

اس پر امریکا کا کہنا تھا کہ وہ یورپی یونین کی تجاویزکی بنیاد پر2015ء مِں طے شدہ معاہدے کی بحالی کے لیے فوری طور پر کسی سمجھوتے تک پہنچنے کوتیار ہے۔

ایرانی حکام نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ یورپی یونین کو اپنے’’اضافی خیالات‘‘ اورسفارشات سے آگاہ کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں