بحیرہ احمرکے سعودی منصوبہ پرتیزی سے پیش رفت جاری، مہمانوں کی 2023 میں آمد متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بحیرہ احمر ترقیاتی کمپنی (ٹی آر ایس ڈی سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او) جان پاگانو کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویرسے ظاہر ہوتا ہے کہ امہات جزائر ریزرو سائٹ پرکام تیزی سے جاری ہے اور اس منصوبہ پر اب تک نمایاں پیش رفت ہوچکی ہے۔

پاگانو کے مطابق لگژری ہوٹل چین رٹزکارلٹن کے ریزرو کولیکشن نوجاما میں واقع 82 کلیدی ریزارٹ ہوں گے اور وہ 2023 میں اپنے مہمانوں کا خیرمقدم کریں گے۔

ہوٹل مالک کی ویب سائٹ پر موجود معلومات کے مطابق یہ جائیداد دنیا بھر میں رٹز کارلٹن کی پانچ املاک میں سے ایک ہے۔اس کے علاوہ اس کے تھائی لینڈ ، جاپان ، انڈونیشیا ، پیورٹوریکو اور میکسیکو میں ہوٹل اور املاک واقع ہیں۔

رٹزکارلٹن کی پریس کے لیے دستیاب معلومات کے مطابق محفوظ جائیدادیں دنیا کے چنیدہ کونوں میں واقع ہیں۔ان میں خوبصورت، آرام دہ اور قریبی ترتیبات ہیں جو انتہائی جواب دہ اور انفرادی خدمت کے ساتھ دیسی ذائقوں کا امتزاج پیش کرتی ہیں۔

نوجاما نجی جزائر کے ایک سیٹ پرواقع ہوگا۔ یہ بحیرہ احمر کے جزائر کے’نیلے خول‘جھرمٹ کا حصہ ہیں۔ توقع ہے کہ اس میں ایک سپا، سوئمنگ پول،پکوان کے متعدد مقامات، ایک خریداری مرکز اورایک محفوظ گاہ سمیت دیگر تفریحی پیش کشیں شامل ہوں گی۔

پاگانو کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں جزیرے کے توسیعی حصے کو دکھایا گیا ہے۔اس میں رہائش کے بہت سے بیرونی خول پہلے سے موجود ہیں۔

مارچ تک 85 سے آف سائٹ مینوفیکچرڈ بیچ اوربالائے آب ولا تیار کیے جا چکے تھے۔ٹی آر ایس ڈی سی نے ایک بیان میں کہا کہ مشترکہ طور پر یہ تفریحی مقامات ہوٹل کی 172 اقامت گاہیں پیش کریں گے۔

2020ء میں ترقیاتی کمپنی کے ایک بیان کے مطابق 2030 میں مکمل ہونے کے بعد بحیرہ احمر کے جزیرے کی سیاحتی منزل 22 جزائراورچھے اندرون ملک مقامات پر8000 ہوٹل کمرے مہیاکرے گی۔

بحیرہ احمر کا یہ منصوبہ سعودی عرب کے مغربی ساحل پر سیاحت کی ایک اہم منزل ہے اور 2017 میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے اعلان کردہ تین بڑے منصوبوں میں سے ایک ہے۔

اسے ایک لگژری سیاحتی منزل بننے کے لیے ڈیزائن کیا جارہا ہے جو پائیدارترقی میں نئے معیارقائم کرتے ہوئے فطرت، ثقافت اور مہم جوئی کو اپنائے گا۔ یہ منصوبہ سعودی عرب کے بحیرہ احمر کے ساحل پر 28 ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے پرپھیلا ہوا ہے۔

ایڈوائزری فرم کولیئرز انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق 2026 تک جی سی سی ممالک میں دس لاکھ سے زیادہ ہوٹل وں کے کمرے ہونے کی توقع ہے۔ان میں سعودی عرب کا سب سے بڑا حصہ ہوگا کیونکہ خطے میں سیاحت کی صنعت کوفروغ حاصل ہو رہا ہے۔

شعبہ سیاحت کے ایک عہدہ دار نے مئی میں رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب نے گشتہ سال چھے کروڑ 20سیاحوں کا خیرمقدم کیا تھا اور رواں سال اس نے سات کروڑ سے زیادہ سیاحوں کے خیرمقدم کا ہدف مقرر کیا ہے۔

مملکت نے حالیہ برسوں میں اپنی جامع حکمت عملی کے حصے کے طور پرتفریحی سیاحت کو فروغ دینا شروع کیا ہے۔اس کا مقصد قومی معیشت کو تیل سے ماورامتنوع بنانا ہے۔اس ویژن کی قیادت ونگرانی خود سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں