سعودی عرب کا پہلاباکسر مملکت کی تاریخ کا سب سے کامیاب ایتھلیٹ بننے کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں پیشہ ورانہ باکسنگ میچ میں حصہ لینے والے پہلے سعودی کھلاڑی نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ مملکت کی تاریخ کے سب سے ماہرایتھلیٹ بننا چاہتے ہیں۔

جدہ میں ایک پریس کانفرنس میں بدھ کو زیاد المعایوف نے کہا کہ ’’مجھے امید ہے،میں سعودی عرب سے باہر واحد ماہر انفرادی ایتھلیٹ بنوں گا۔یہ میرا مقصد ہے۔یہی میرا خواب ہے،مجھے لگتا ہے کہ میں ابھی یہ کر رہا ہوں‘‘۔

المعایوف نے سعودی عرب کے عوام کی طرف سے ملنے والی’محبت‘کو بھی سراہا۔سعودی عوام نے ہفتہ کے مقابلے کے لیے انھیں زبردست داد دی ہے۔ان کا بحیرہ احمرکے کنارے واقع شہرجدہ میں ہاؤزے الٹوری سے سامنا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کے عوام نے مجھ سے ایسی محبت کا مظاہرہ کیا ہے جس کا میں بچپن میں خواب بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ’’میں نے اس طرح کے اسٹیج پر آنے کا بچپن میں خواب بھی نہیں دیکھا تھا۔یہ واقعی عجیب ہے، میں بہت عاجز ہوں۔میں ہر روزاللہ کا شکرادا کرتا ہوں، میں دن کے ہرمنٹ میں دعا کررہا ہوں‘‘۔

22سالہ المعایوف نیویارک میں ایک سعودی والد اور مصری ماں کے ہاں پیدا ہوئے تھے اوران کی پرورش مصر میں ہوئی ہے۔

وہ لاس اینجلس میں سابق آئی بی ایف جونیئر ویلٹر ویٹ اور ڈبلیو بی سی ویلٹر ویٹ چیمپئن بڈی میک گیرٹ کے زیرنگرانی تربیت حاصل کرتے رہے ہیں۔

المعایوف نے گذشتہ آٹھ ہفتوں میں برطانیہ کے شہر لیورپول میں میک گیرٹ اورٹریننگ پارٹنر کالم اسمتھ کے ساتھ تربیت حاصل کی ہے۔کالم اسمتھ کا اپنا مقابلہ ہفتے کے روزجدہ میں لائٹ ہیوی ویٹ میں متھیو باؤڈرلیک سے ہوگا۔

انھوں نے اسے اب تک کا سب سے مشکل کیمپ قرار دیا ہے اور کہا کہ وہ ایک مشکل مرحلےسے وہ گزرے ہیں۔اس کی وجہ جزوی طور پر برطانیہ میں ان کے لیے اجنبی ماحول اور وہاں ہونے والے سخت مقابلے ہیں۔

’’باکسنگ میں مقابلہ جنگ میں بدل جاتا ہے۔ہرکوئی آپ کا سراتارنا چاہتا ہے اور یہ آپ کے لیے لیورپول ہے۔یہ صرف ایک نعمت تھی اور میں اس بڑے پیمانے پر مقابلے کے لیے محسوس کرتا ہوں، مجھے جس کی ضرورت تھی ،وہ سب مجھے مل گیا ہے‘‘۔ان کا کہنا تھا۔

المعایوف نے پریس کانفرنس میں اس بارے میں بھی بات کی کہ وہ کس طرح مملکت کے نوجوان کھلاڑیوں کو متاثر کرنے کی توقع رکھتے ہیں اور اپنے مقابلے کو خواہش مند سعودی باکسروں کے لیے ایک اہم ’’سنگ میل‘‘ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مستقبل کے سعودی ستاروں کے پرچم بردارہونے کے بارے میں دباؤ سے متعلق پوچھے جانے پرالمعایوف نے جواب دیا:’’دباؤ ہیرے بناتا ہے اور رات کو یہی ہونے والا ہے‘‘۔انھوں نے مزید کہا کہ میں یہاں حوصلہ افزائی کے لیے آیا ہوں اور میں سعودی عرب کے کھلاڑیوں کے لیے بارش کا پہلا قطرہ بننا چاہتا ہوں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں