اسرائیلی وزیراعظم کی ایران سے مجوزہ جوہری معاہدے پرجرمن چانسلرشلزسے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیراعظم یائرلاپیڈ نے جمعرات کو جرمن چانسلراولف شلز سے بات چیت میں اسرائیل کے اس موقف پرزوردیا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی کی کوششیں ختم ہونی چاہییں۔

اسرائیل کے ایک سینیرسفارتی عہدہ دار نے بتایا کہ لاپیڈ نے شلزکے ساتھ بات چیت کے علاوہ امریکی ایوان نمایندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی مشرق اوسط سے متعلق ذیلی کمیٹی کے چیئرمین ٹیڈ ڈیوچ اوراسرائیل میں امریکی سفیرٹام نیڈ سے بھی ایران سے مجوزہ جوہری معاہدے پرگفتگو کی ہے۔

صہیونی وزیراعظم نے یورپی یونین کی جانب سے ایک ’’حتمی‘‘ مسودہ پیش کرنے کے چند روز بعد یہ میل ملاقاتیں کی ہیں۔اسرائیل کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ ایال ہولاٹا اس سلسلے میں مزید مذاکرات کے لیے اگلے ہفتے امریکا روانہ ہونے والے ہیں۔

امریکی اور مغربی عہدے داروں سے ان کی بات چیت کا مقصد امریکا کو 2015ء میں طے شدہ جوہری معاہدے کی بحالی سے بازرکھنا ہے۔سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اس معاہدے سے 2018ء میں یک طرفہ طور پر دستبردار ہوگئے تھے اور اسرائیل نے ان کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا تھا۔

اسرائیلی عہدہ دار نے ایک ای میل بیان میں کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کوخیرباد کَہ دیاجائے۔انھوں نے مزید کہا:’’اس کے علاوہ کوئی اور چیز کمزوری کا پیغام دیتی ہے‘‘۔

عہدہ دار نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے آگے بڑھ کراقدام کیا جائے اور اس بارے میں مل بیٹھ کر بات کی جائے۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے بار باراس معاہدے کی بحالی کی کوششوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے یا خطے میں اس کے حمایت یافتہ عسکریت پسند گروہوں کے خلاف فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایران طویل عرصے سے جوہری ہتھیارتیارکرنے کی خواہش کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔اس نے کسی بھی اسرائیلی حملے کے خلاف "تباہ کن‘‘ ردعمل کی دھمکی دے رکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں