برطانیہ اور پاکستان کے درمیان مجرموں کی حوالگی کے دو طرفہ معاہدے پر دستخط

برطانوی ہوم سیکرٹری نے معاہدے کو اہم سنگ میل قرار دے دیا ۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان ملزمان کی حوالگی کا دو طرفہ معاہدہ کیا ہے۔ برطانوی ہوم آفس کے مطابق اس معاہدے کے تحت غیر ملکی مجرموں اور غیر قانونی تارکین وطن کے سلسلے میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں برطانوی سیکرٹری داخلہ پریٹی پٹیل سے پاکستان کے سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کی ملاقات ہوئی ۔ ملاقات میں پاکستان کے ہائی کمشنر معظم احمد خان کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں۔

معاہدے کے بعد برطانوی ہوم سیکرٹری نے اپنے ٹویٹ میں کہا ' میں نے ایک سنگ میل بننے والے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ ' جس کے تحت برطانیہ سے مجرم اور غیرقانونی تارکین وطن کو پاکستان کے حوالے کیا جا سکے گا۔'

انہوں نے اپنے ٹویٹ میں مزید کہا ' میں ان غیر ملکی مجرموں اور غیر قانونی طرح پر برطانیہ میں موجود تارکین سے معذرت نہیں کرتی کیونکہ انہیں برطانیہ میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔''

پٹیل نے یہ بھی کہا ہے ' برطانوی عوام حق بجانب ہیں کہ جو لوگ ہمارے قانون کی بہت خلاف ورزی کر چکے ہیں اور ہمارے نطام سے کھیل چکے ہیں انہیں یہاں سے نکال دیا جائے، اس لیے اپنے پاکستانی دوستوں کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے مجھے فخر ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری حکومت امیگریشن کے نئی قوانین کو بروئے کار لانا چاہتی ہے۔ '

برطانوی محکمہ داخلہ کے مطابق پاکستان وہ ملک ہے جس کے شہری انگلینڈ اور ویلز کی جیلوں میں تعداد کے حساب سے ساتویں نمبر پر ہے۔ جو کہ کل غیر ملکی قیدیوں کی تعداد کی قریبا تین فیصد بنتی ہے۔

اس نئے دو طرفہ معاہدے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں ملک غیر قانونی تارکین وطن کے معاملے سے نمٹنے کے لیے گہری کمٹمنٹ رکھتے ہیں، تاکہ دونوں ملکوں کے لیے اس اہم مسئلے کا تدارک کیا جاسکے۔' معاہدے کے تحت برطانیہ اور پاکستان برطانیہ دونوں ایک دوسرے کے لیے جاری ان کوششوں کو بھی بہتر اور وسیع کریں گے جو دونوں کے ہاں قانون کے نفاذ کو موثر بنانے کے لیے جاری ہیں۔ '

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں