روس اور یوکرین

ترک صدرایردوآن نے روس کے مقابلے میں کھل کر یوکرین کی حمایت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے جمعرات کو یوکرین کی کھل کرحمایت کا اظہارکیااورخبردارکیا ہے کہ حملہ آور روسی افواج کے زیرقبضہ یوکرین کا ایک جوہری بجلی گھر’’ایک اور چرنوبل‘‘ ایسی تباہی کے خطرے سے دوچارہواچاہتا ہے۔

ترک رہ نما نے روسی صدر ولادی میرپوتین کے ساتھ سیاحتی مقام سوچی میں مذاکرات سے صرف دو ہفتے کے بعد لفیف میں اپنے یوکرینی ہم منصب ولودی میر زیلنسکی سے ملاقات کی ہے۔اس میں فریقین نے دوطرفہ اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کا عہد کیا ہے اور دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کی ہے۔

صدر ایردوآن نے صحافیوں کوبتایاکہ نیٹو کا رکن ترکی اس تنازع میں یوکرین کی حمایت میں پختہ عزم کے ساتھ کاربند ہےاور وہ جنگ کے خاتمے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ ہم بحران کا حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے اور اس ضمن مں ہم یوکرین کے دوستوں کے شانہ بشانہ ہیں۔

ترک صدر کی زیلنسکی اور اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیرس،دونوں کے ساتھ اکٹھے روس کے فروری میں حملے کے بعد پہلی ملاقات کی ہے۔اس دوران میں یوکرین کے زپوریژیا جوہری بجلی گھر کے ارد گرد پھیلی لڑائی کے بارے میں عالمی سطح پرخطرات کا انتباہ کیا جارہا ہے۔

روس کے زیر قبضہ اس تنصیب پرگذشتہ کئی روز سے گولہ باری ہو رہی ہے۔ترک صدر نے کہا کہ ہم یہ صورت حال دیکھ کرپریشان ہیں اور ایک اور چرنوبل کو نہیں دیکھا چاہتے ہیں۔

طیب ایردوآن نے صحافیوں سے گفتگو میں صرف ایک بار روسی صدر ولادی میرپوتین کا ذکر کیا۔انھوں نے کہا کہ ہم نے جنگی قیدیوں کے تبادلے اور اس سلسلے میں اپنے اقدامات پرتبادلہ خیال کیا ہے اور کہا کہ’’ ہم مسٹر پوتین کے ساتھ اس بارے میں بات کرتے رہیں گے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں