سعودی خواتین باکسروں کی رملہ علی کے زیرِقیادت تربیتی سیشن میں شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی لڑکیوں اور خواتین نے صومالی نژاد برطانوی فائٹرباکسر رملہ علی کی قیادت میں باکسنگ کے تربیتی سیشن میں حصہ لیا ہے۔ وہ ہفتے کے روز کرسٹل گارشیا نووا کے مدمقابل رنگ میں اترنے اور تاریخ رقم کرنے والی ہیں۔

رملہ نے جمعرات کی صبح جدہ کی وعد اکیڈمی میں سعودی عرب بھر کے کلبوں سے 15 سے 30 سال کی خواتین کے ایک گروپ کو رشا الخمیس کے ساتھ باکسنگ کے گُر سکھائے ہیں۔ رشا سعودی عرب کی پہلی تصدیق شدہ خاتون باکسنگ کوچ ہیں۔

ہفتہ کو بحیرہ احمر کے ایونٹ میں رملہ اور نووا ایک دوسرے کے مدمقابل میدان میں اتریں گی اور وہ سعودی عرب میں پیشہ ورانہ باکسنگ میچ میں شرکت کرنے والی پہلی دو خواتین ہوں گی۔

رملہ علی نے ایک پریس بیان میں کہا کہ منتظمین نے انھیں مقابلے میں حصہ لینے کی دعوت دی اور اس مقابلے کو آگے بڑھنے کی اجازت فی الواقع خطے میں ہونے والے منظرنامے میں ثقافتی تبدیلی کی مظہر ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’مجھے امید ہے،میں اور میرے حریف کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں باکسنگ مقابلوں میں میدان میں اترنے والی خواتین نسلوں کو متاثر کریں گی‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ ’’سعودی لڑکیوں کے اس گروپ کے ساتھ وقت گزارنا بہت اچھا رہا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ یقین محکم رکھتی ہیں اور ان کے عزائم لامحدود ہیں‘‘۔

رشاالخمیس نے اس موقع پرکہا:’’تربیتی پروگرام نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ کوچ اور ریفریوں کی ترقی کے لیے بھی بہت اہم ہیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس جتنی زیادہ باکسر ہوں گی ،اتنے ہی زیادہ مقابلوں کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔اس طرح امیدافزا صلاحیتوں کی شناخت میں مدد ملتی ہے۔ہم مسلسل مزید تربیت دینے اور قومی اور علاقائی سطح پر مقابلوں کی تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ مزید پروگراموں پرغور کر رہے ہیں۔مستقبل کے کھلاڑیوں کے لیے نئی راہیں ہموارکریں گے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں کھیلوں میں خواتین کی شرکت کو بہتربنانے میں بے مثال پیش رفت کی ہے۔روایتی طورپرلڑکیوں کو کھیلوں کی بہت سی سرگرمیوں سے منع کیاجاتا ہے۔ سعودی لڑکیوں کو 2017 میں شروع ہونے والے اسکولوں میں جسمانی تعلیم کے اسباق میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی تھی۔

جنوری 2018 میں خواتین کو پہلی بار فٹ بال میچ میں شرکت کی اجازت دی گئی تھی۔2017ء میں سعودی ویژن 2030 کے تحت اصلاحات کے آغاز سے اب متعدد کھیلوں میں خواتین کی قومی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔اس کے بعد سے مملکت کی خواتین کھلاڑیوں نے علاقائی اور بین الاقوامی مقابلوں میں ایک سو سے زیادہ تمغے حاصل کیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں