سعودی عرب ،ازبکستان میں سرمایہ کاری کےمعاہدے، دو طرفہ تعلقات مضبوط بنانے کاعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ازبکستان کے صدر شوکت میرزیوف کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کے مطابق شوکت میرزیوف نے جدہ کے السلام محل میں بدھ کو سعودی ولی عہد سے ملاقات کی ہے۔

انھوں نے دوطرفہ مذاکرات کے دوران مشترکہ مفادات کے متعدد امور کا جائزہ لیا اور دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں اورمختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع پرغورکیا۔سعودی، ازبکستان مذاکرات میں طرفین کے متعدد وزرا اور سینیر عہدے دار بھی شریک تھے۔

دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مستحکم کرنے کے لیے 14 دو طرفہ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یو) پر دست خط کیے گئے ہیں۔اس موقع پر سرمایہ کاری کے وزیرخالد بن عبدالعزیز الفالح اورازبکستان کے نائب وزیراعظم اورسرمایہ کاری اور خارجہ تجارت کے وزیر جمشید خدیو موجود تھے۔

ان معاہدوں کا مقصد سرمایہ کاری، زراعت، صحت کی تعلیم اور سائنس کے مختلف شعبوں میں سعودی عرب اورازبکستان کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔ طے پانے والے معاہدوں میں سیاحت، توانائی، کھیلوں کے شعبوں میں تعاون کے ساتھ ساتھ مزدوروں کے روزگار کے لیے تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشتیں بھی شامل ہیں۔

ایس پی اے نے ایک رپورٹ میں کہا کہ طے پانے والے معاہدوں اورمفاہمت کی عرض داشتوں کا مقصد سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنا، سعودی اورازبک نجی شعبوں کے درمیان شراکت داری کو آگے بڑھانااورمتعدد اہدافی شعبوں میں باہمی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور اضافہ کرنا ہے۔

ان معاہدوں کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں ’’تزویراتی شراکت داری کو وسعت وسعت دینے، سرمایہ کاری کے تعلقات کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کے دستیاب مواقع سے متعلق اعدادوشمار کا تبادلہ اور سرمایہ کاری کے معیاری مواقع سے فائدہ اٹھانے پر بھی غور کیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں