امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ ڈیل کی لیکس، واشنگٹن کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے انٹرنیشنل چینل نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان آئندہ ہونے والے معاہدے کی کچھ معلومات جاری کی ہیں۔ یہ معلومات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب دوسری طرف امریکا اور یورپی یونین کے ایرانی ردعمل کا مطالعہ مکمل کرنے کا عمل مکمل نہیں ہوا ہے اور اس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

جمعرات کو ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے 17 بینکوں پر سے پابندیاں ہٹانے اور جنوبی کوریا میں منجمد 7 ارب ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثوں کو جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن نے ایران کے 155 اداروں پر پابندیاں نرم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور تہران کو 120 دنوں کے اندر 50 ملین بیرل تیل فروخت کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

واشنگٹن کی تردید

ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان متوقع معاہدے کے نتیجے میں قیدیوں کا تبادلہ ہوگا۔

انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دونوں فریقوں کے درمیان متوقع ڈیل 4 ماہ کے اندر نافذ ہو جائے گی۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان ایڈرین واٹسن نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے ’رعایتوں‘ کی خبریں مکمل طور پر غلط ہیں۔ایکسیز ویب سائٹ کے مطابق امریکی حکومت کے ترجمان نے ایرانی چینل کے دعووں کو قطعی طورپربے بنیاد اورمن گھڑت قرار دیا۔

نیا مرحلہ

یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے جمعرات کوکہا تھا کہ اگر جوہری معہادے سے تہران کے اقتصادی فواید جو یقینی بنایا جائے اور اور تہران کی سرخ لکیروں کا احترام کیا جائے توان کا ملک ویانا مذاکرات میں ایک "نئے مرحلے" میں داخل ہو گا۔

ایرانی وزیرخارجہ حسین امیر عبداللہہیان
ایرانی وزیرخارجہ حسین امیر عبداللہہیان

اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت میں انہوں کہا کہ مذاکرات میں ایک اچھے اور پائیدار معاہدے تک پہنچنے کے بارے میں بات کرنا ممکن نہیں جب تک کہ ہر چیز پر اتفاق نہ ہو جائے۔

انہوں نے اپنے ملک اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے معاہدے تک پہنچنے میں ایران کی "خیر سگالی" اور سنجیدگی کا بھی حوالہ دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں