امریکی عدالت نے ہادی مطر کو ضمانت پر رہائی دینے سے انکار کر دیا

میڈیا کو انٹرویو دینے سے بھی روک دیا۔ ہادی مطر کبھی کسی جرم میں ملوث نہیں رہا ہے: وکیل صفائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی عدالت کے جج نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے مرتکب سلمان رشدی پر حملہ کرنے والے ملزم ہادی مطر کو ضمانت پر رہائی دینے سے انکار کر دیا ہے۔

24 سالہ ہادی مطر نیو یارک کی عدالت میں پیش ہوا تو اس نے جیل کا سفید اور سیاہ دھاری دار لباس پہنا ہوا تھا۔ وہ عدالت کے سامنے کچھ بولا نہیں۔ تاہم اس کے وکیل نے عدالت کے سامنے اس کی ضمانت کی درخواست پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہادی مطر کا کوئی جرائم ریکارڈ نہیں ہے اور ماضی میں کسی بھی مقدمہ میں مطلوب نہیں رہا۔ اس لیے اسے ٹرائل تک ضمانت پر رہا کر دیا جائے۔ وکیل نے عدالت کے سامنے یہ استدعا بھی کی کہ ہادی مطر ملک سے فرار نہیں ہوگا۔ تاہم عدالت نے ضمانت پر رہائی سے انکار کردیا۔

ہادی مطر کے وکیل بارون نے عدالت سے درخواست کی کہ جیل سے رابطہ کرنے والے رپورٹرز کو روکا جائے جو ہادی مطر کا انٹرویو کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اب تک انٹرویو کے لیے سینکڑوں کالز آچکی ہیں۔ جج نے ہادی مطر کو ہدایت کی کہ وہ کسی رپورٹر کو انٹرویو نہیں دے گا جب تک کہ یہ معاملہ طے نہیں ہو جاتا۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے ہادی مطر نیو یارک ٹائمز کو انٹرویو دے چکا ہے ، جس میں اس نے سلمان رشدی کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا جبکہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی کو عظیم شخصیت قرار دیا تھا۔ اس نے اس انٹرویو میں اپنے نیو یارک پہنچنے کی تفصیل بھی بتائی۔ جبکہ سلمان رشدی کی متنازعہ کتاب کے بارے میں کہا کہ اس نے اس کے صرف دو صفحے پڑھے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں