مارشل آرٹ کا سعودی کھلاڑی مقابلہ جیت کر سونے کے تمغہ کا حق دار بن گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مارشل آرٹس کے سعودی کھلاڑی نے بین الاقوامی مقابلہ جیت لیا۔ مقابلہ جیت کر عبد الإله مير عالم نے گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔ ایم ایم اے کھلاڑی عبد الإله نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں امریکی کھلاڑی کو شکست دی ہے۔

ابوظہبی میں ان دنوں ورلڈ یوتھ چیمپین شپ کے تحت مقابلے جاری ہیں۔ سعودی شہری نے امریکی کھلاڑی کو شکست دے کر سونے کا تمغہ اپنے نام کر لیا۔ مارشل آرٹس کا یہ مقابلہ 62 کلو سے کم وزن رکھنے والے کھلاڑیوں کے درمیان تھا۔

پہلی بار مملکت سعودیہ کو مارشل آرٹس ٹورنامنٹ میں گولڈ میڈل ملنے پر عبد الإله خوشی سے نہال ہوگیا۔ سعودی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی فیڈریشن آف مکسڈ مارشل آرٹس کے سربراہ عبدالعزیز نے اس موقع پر خوشی کا اظہار کیا کہ عبد الإله نے مملکت سعودیہ کا نام روشن کیا۔

بین الاقوامی ایم ایم اے فیڈریشن نے یوتھ ایم ایم اے ورلڈ چیمپین شپ 2022 کا ابوظہبی میں انعقاد کیا۔ مقابلہ میں 12 سال سے 17 سال کی عمر کے کھلاڑی شامل تھے۔ ابوظہبی کو تین سال کے لیے میزبانی کا حق حاصل ہے۔

فیڈریشن کے تحت ہونے والے مقابلوں کی میزبانی متحدہ عرب امارات اور فیڈریشن نے مشترکہ طور پر کی۔ ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو ان کی عمر کے حساب سے تین درجوں میں تقسیم کیا گیا۔ یوتھ اے میں 16 سال سے 17 سال کی عمر کے کھلاڑی، یوتھ بی میں 14 سال سے 15 سال کی عمر کے کھلاڑی اور یوتھ سی میں 12 سال سے 13 سال کی عمر کے کلھاڑی شامل تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں