ایران نے پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ سے نکالنے کے مطالبے سے دست بردار: امریکی اہلکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں ایک سینیر امریکی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے باضابطہ طور پر پاسداران انقلاب کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کا مطالبہ ترک کر دیا ہے۔ اس سے قبل ایران کی طرف سے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششوں میں یہ ایک اہم نکتہ تھا۔

اہلکار نے جمعہ کو CNN کو بتایا کہ تہران نے پیر کو یورپی یونین کی جانب سے 2015 کے معاہدے کو بحال کرنے کی تجویز کے جواب میں پاسداران انقلاب کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کا مطالبہ نہیں کیا جو اس کے لیے ایک "سرخ لکیر" ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ "متن کا موجودہ ورژن اور جو کچھ وہ مانگ رہے ہیں اس سے اس مطالبے کو ختم کر دیا گیا ہے"۔ امریکا بارہا اس درخواست کو مسترد کر چکا ہے۔ لہذا اگر ہم کسی معاہدے کے قریب ہیں تو اسی لیے ایران نے اس مطالبے کو مزید نہیں دہرایا۔

انہوں نے واضح کیا کہ تہران نے پاسداران انقلاب سے منسلک کئی کمپنیوں کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے کے اپنے مطالبات کو ترک کر دیا ہے۔

اہلکار نے زور دے کر کہا کہ صدر اس بات پر پختہ تھے کہ وہ ’آئی آر جی سی‘ کو دہشت گردی کی فہرست سے نہیں نکالیں گے۔

تاہم انہوں نے کہا جب کہ یہ معاہدہ اب "دو ہفتے پہلے کے مقابلے میں قریب تر ہے، لیکن نتیجہ اب بھی غیر یقینی ہے، کیونکہ ابھی بھی کچھ خلا باقی ہیں۔ صدر بائیڈن صرف اس معاہدے پر راضی ہوں گے جو ہماری قومی سلامتی کے مفادات کو پورا کرے۔"

یہ بیانات "ایران انٹرنیشنل" چینل کے ذرائع کے حوالے سے جمعرات کے روز واشنگٹن اور تہران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے افشا ہونے کے بعد سامنے آئے ہیں۔

ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن نے 17 بینکوں پر سے پابندیاں اٹھانے اور جنوبی کوریا میں منجمد ایرانی 7 ارب ڈالر کے اثاثے جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ واشنگٹن نے ایران کے 155 اداروں پر پابندیاں نرم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور تہران کو 120 دنوں کے اندر 50 ملین بیرل تیل فروخت کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں