بھارت کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں مون سون بارشیں اور سیلاب؛ 15 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں مون سون کی شدید بارشوں کے نتیجے میں ہمالیہ کے دامن کے قریب سیلاب اورلینڈسلائیڈنگ کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

بھارت کے شمالی علاقوں میں سیلاب کے نتیجے میں مٹی کے تودے اور پتھریلی چٹانیں گرنے کے واقعات عام ہے اور وہ مون سون کے موسم میں وسیع پیمانے پر تباہی کا سبب بنتے ہیں۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق شمالی ریاست ہماچل پردیش کے ضلع منڈی میں سیلابی ریلے میں دو گھربہ گئے اورآٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔اس ریاست کے دوسرے علاقوں میں مٹی کے تودے اور پتھرگرنے اور سیلاب سے سات مزید افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ٹیلی ویژن کی فوٹیج میں قریبی ضلع کانگڑا میں سیلاب سے بہ جانے والے ریلوے کے پل کا کچھ حصہ دکھایا گیا ہے۔

ایک اور ضلع حامی پور میں سیلابی ریلے کے بعد 19 افراد چھتوں پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے اور وہ وہیں کئی گھنٹے تک پھنسے رہے تھے تاآنکہ انھیں ہنگامی امدادی ٹیموں نے آکربچایا۔سیلاب سے بدترین متاثرہ اضلاع میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں۔

خوب صورت قدرتی مناظرسے بھرپور ریاست ہماچل پردیش اپنے برف سے ڈھکے پہاڑوں کے لیے مشہور ہے اورایک مقبول سیاحتی مقام ہے۔گذشتہ ماہ اسکے نزدیک واقع متنازع ریاست کشمیر میں زائرین کے کیمپ میں اچانک سیلابی پانی داخل ہونے سے آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جون میں بھارت کی دوردراز شمال مشرقی ریاست منی پورمیں موسلا دھار بارش نے تباہی مچا دی تھی اورریاست میں ریلوے کے کارکنوں اور فوج کے محافظ کا ایک کیمپ زیرآب آگیا تھا۔ کیمپ کے مکین لینڈسلائیڈنگ اور سیلاب کے بعد وہ دلدل میں پھنس کر رہ گئے تھے جس کے نتیجے میں قریباً 40 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے دنیا بھر میں موسم کے انتہائی واقعات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔بھارت میں ڈیموں کی تعمیر، جنگلات کی کٹائی اور ترقیاتی منصوبوں کا خمیازہ انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں بھگتنا پڑرہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں