فرانس، جرمنی سمیت 9 یورپی ملکوں نے این جی اوز پر اسرائیلی پابندی پر تشویش ظاہر کر دی

جمہوری اقدار اور دو ریاستی حل کے لیے مضبوط سول سوسائٹی ضروری ہے، 9 ممالک کا مشترکہ بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس اور جرمنی سمیت 9 یورپی ممالک نے اسرائیلی فوج کے فلسطینی این جی اوز کے دفاتر پر چھاپوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان 9 ممالک کا کہنا ہے کہ ہمیں اسرائیلی حکومت کی طرف سے فلسطینیوں کے لیے مغربی کنارے میں کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کے دفاتر زبر دستی بند کیے جانے پر گہری تشویش ہے۔

اسرائیلی فوج نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ اس نے رام اللہ میں کام کرنے والی سات این جی اوز کے دفاتر پر چھاپے مارے ہیں۔ خیال رہے مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی کا ہیڈ کوارٹر بھی قائم ہے۔

اسرائیلی فوج کے انہی چھاپوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے یورپی ممالک نے ایک بیان میں اپنی بھر پور تشویش کا اظہار کیا 'ہم 18 اگست کی صبح مارے گئے ان چھاپوں پر گہری تشویش رکھتے ہیں، یہ کارروائی سول سوسائٹی کے لیے کام کرنے کی جگہ تنگ کر دینے کے مترادف ہے، اس لیے یہ قابل قبول نہیں ہے۔ '

یہ مشترکہ بیان جاری کرنے والے ملکوں میں بیلجئیم، ڈنمارک، فرانس، جرمنی، آئر لینڈ، اٹلی، سپین، اور سویڈن بھی شامل ہیں۔ امریکہ جمعرات کے روز ہی اسرائیل کی اس کارروائی پر تشویش ظاہر کر چکا ہے۔

پچھلے سال ماہ اکتوبر میں اسرائیل نے ان این جی اوز میں سے چھ کو دہشت گرد گروپس بنا ڈالا تھا۔ ان پر اسرائیل کی طرف سے الزام تھا کہ ان کا تعلق بائیں بازو کے عسکری مسلح گروپ 'پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین' کے ساتھ ہے۔ تاہم اسرائیل نے اپنے اس موقف کا اعلان عوامی سطح پر نہیں کیا تھا۔

این جی اوز نے اسرائیل کے الزام کی تردید کی تھی کہ ان میں سے کسی کا بھی' پی ایف ایل پی' کے ساتھ تعلق ہے۔ واضح رہے ' پی ایف ایل پی ' کو کئی مغربی ممالک نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

ساتویں تنظیم جس کے دفتر پر اتھارہ اگست کی صبح چھاپہ مارا گیا ہے وہ ' یونین آف ہیلتھ ورک' ہے ۔ اس کے مغربی کنارے میں کام کرنے پر اسرائیل نے 2020 میں پابندی لگائی تھی۔ یہ مغربی کنارا درحقیقیت اردن کا علاقہ ہے۔ اسرائیل نے 1967 کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران اس پر قبضہ کر لیا تھا۔

یورپی ملکوں نے اپنے جاری کردہ مشترکہ بیان میں مزید کہا ہے 'ایک آزاد اور مضبوط سول سوسائٹی ہی جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے اور دو قومی ریاستی حل کے لیے کردار ادا کر سکتی ہے۔ سول سوسائٹی کا کوئی اور متبادل نہیں ہے۔'

ان ملکوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل نے این جی اوز کے کام پر پابندی لگانے سے پہلے کوئی ایسی معلومات فراہم نہیں کی ہیں، جو ہمیں اپنی پالیسی تبدیل کرنے کا جواز پیدا کرتیں۔' مگر یہ ممکن ہے کہ ہمیں کوئی قائل کر دینے والے ثبوت دیے جائیں تو ہم انہیں تسلیم کر کے اسرائیل کی بات مان لیں۔' اس سے قبل جمعرات کے روز امریکہ نے بھی اسرائیل کے چھاپے مارنے پر تشویش ظاہر کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں