’بادیہ نشینی میری زندگی اور میں صحراؤں کا محافظ ہوں‘

صحراؤں میں پھنسے سیاحوں کو ریسکیو کرنے والے مبارک النماصی سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

’بادیہ[خانہ بدوشی] میری زندگی ہے اور میں صحراؤں کا محافظ ہوں۔" یہ الفاظ سعودی عرب کے ریسکیو ورکر مبارک النماصی کے ہیں جہیں بدوی زندگی بے حد پسند ہے۔ مبارک نے کئی سال صحراؤں میں راستہ بھٹک جانے والے سیاحوں اوردوسرے لوگوں کو تلاش کرنے اور انہیں منزل تک پہنچانے میں ان کی مدد کی۔ مبارک کا یہ پیشہ اس کا مشغلہ بھی ہے جس اسے ورثے میں ملا ہے۔ اس کے آباؤ اجداد بھی ریت کے ٹٰیلوں کےدرمیان سفر کرتے اور صحراؤں میں امدادی کاموں میں حصہ لیتے تھے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے مبارک النماصی نے کہا کہ وہ اب تک صحرا میں گمشدہ 10 سے زائد افراد کو بچا چکے ہیں۔ ان میں سعودی شہری، غیر سعودی چرواہے اور سیاح شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جیسے کسی کے صحرا میں گم ہونے کی خبر ملتی ہے وہ فورا اپنی ریسکیو ٹیموں کے ساتھ ان کی تلاش میں روانہ ہوجاتے ہیں۔

تلاش کی تھکاوٹ اور مشقت کے باوجود انہیں یہ کام بے حد پسند ہے۔ مبارک کا کہنا ہے کہ انہیں صحراؤں میں گم ہونے والے لوگوں کی تلاش اور غوطہ لگانے میں بہت خوشی ملتی ہے۔ تلاش کا سفر عام طور پر آخری سگنل کے بارے میں ان کے پاس دستیاب معلومات پر انحصار کرتے ہوئے شروع ہوتا ہے جس کے ذریعے لاپتہ شخص اپنے جاننے والوں سے رابطہ کرتا ہے جہاں سے وہ لاپتہ شخص کی مدد کے لیے رسیوں، خوراک اور پانی کے ساتھ روانہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ انسانی خدمت ہے جس پر انہیں بجا طور پر فخر ہے۔ جب وہ کسی گم شدہ شخص کو تلاش کرلیتے ہیں تو انہیں بہت زیادہ خوشی ملتی ہے کیونکہ وہ کسی انسان کی مشکل میں اس کے کام آتے ہیں۔

ناقابل بیان احساس

مبارک النماصی کہتے ہیں کہ صحرا میں راستہ کھو دینےوالے کسی شخص کو تلاش کرنے کے وقت کا احساس ناقابل بیان ہوتا ہے۔ وہ اپنا رضاکارانہ مشن اور صحراؤں میں لاپتا افراد کی تلاش کا دائرہ مزید وسیع کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ میں نے یہ انسانی مشن اس وقت شروع کیا جب مجھے پتا چلا کہ صحرائے نفود میں کچھ لوگ لا پتا ہیں۔ میں ان کی تلاش میں نکلا تو مجھے ان کی لاشیں ملیں جوبھوک اور پیاس کی شدت سے مرچکے تھے۔ یہ کیفیت دیکھ کر مجھے شدید صدمہ پہنچا۔اس کے بعد میں نے خود کو صحراوٗں میں راستہ کھو دینے والوں کی تلاش اور مدد کے لیے وقف کرلیا۔

ایک سوال کے جواب میں مبارک النماصی کا کہنا تھا کہ صحراؤں میں سفر نے اسے بہت کچھ سیکھنے کا بھی موقع دیا۔

انہوں نے کہا کہ صحراوٗں میں سفرمشکل اور تکلیف دہ ہوسکتا ہے۔ لوگ بسا اوقات صحرا کے وسیع سمندر میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔

مبارک النماصی کا کہنا تھا کہ صحراؤں میں سفر کرنے والوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہیے۔انہیں پانی اور خوراک کا ضروری سامان ساتھ رکھنا چاہیے تاکہ وہ صحرا میں کسی مشکل میں زیادہ سے زیادہ وقت زندہ رہ سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں