ایران جوہری معاہدہ

ایران سے خلیج برقرار،لیکن جوہری معاہدہ پہلے سے قریب تر: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکاایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے یورپی یونین کے پیش کردہ مجوزہ معاہدے کا جائزہ لے رہا ہے اوراس کا کہنا ہے کہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ ایران نے کچھ اہم مطالبات ختم کردیے ہیں۔

ایک امریکی عہدہ دارنے پیر کو بتایا کہ بائیڈن انتظامیہ مناسب وقت پریورپی یونین کے مجوزہ سمجھوتے کا جواب دے گی جبکہ ایران کی جانب سے تاخیرگذشتہ کئی مہینوں سے جاری ہے اور اب امریکا کے بارے میں یہ کہنا غلط ہوگاکہ وہ مذاکراتی عمل میں مزیدتاخیر کررہا ہے۔

عہدہ دارنے کہا کہ امریکا اسے ایک مثبت علامت کے طور پر دیکھتا ہے اورایسا لگتا ہے کہ ایران نے اپنے کچھ مطالبات کوختم کردیا ہے۔مثال کے طور پروہ امریکا کی جانب سے سپاہ پاسداران انقلاب کوغیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے مطالبے سے دستبردار ہوگیا ہے۔

یورپی یونین کی تجویزایک نئے معاہدے پربات چیت کے حوالے سے تازہ اقدام ہے۔ایک ہفتہ قبل اس پر ایران کا ردعمل سامنے آنے کے بعد سے یورپی یونین کی تجویز کے بارے میں امریکی ردعمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اس عہدہ دارنے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ امریکا اب بھی نظرثانی شدہ متن کا مطالعہ کررہا ہے لیکن اب ایک نیا معاہدہ دو ہفتے پہلے کے مقابلے میں قریب تر ہے۔البتہ اس کا نتیجہ غیریقینی ہے کیونکہ کچھ خلا باقی ہیں اوربعض مسائل کو ابھی حل کیا جانا چاہیے۔

امریکا کی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا ایران کے لیے برتن کو میٹھا کرنے کی نئی پیش کشوں پر غورنہیں کر رہا ہے۔2015 کے جوہری معاہدے میں دوبارہ شمولیت کے حصے کے طور پر ہم نے ایران کے لیے بعض نئی رعایتیں قبول کرلی ہیں یا ان پرغور کر رہے ہیں۔

واٹسن نے کہا کہ امریکااس معاملے پراسرائیل کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور اس بات چیت کر رہا ہے۔اس سلسلے میں اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیرایال ہولاٹا رواں ہفتے واشنگٹن میں ہیں۔

قبل ازیں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسیپ بوریل نے کہا کہ ایران نے 2015 کے جوہری معاہدے کو بچانے کے لیے یورپی یونین کی تازہ تجویز پرمعقول جواب بھیجا ہے اور سفارت کار اگلے اقدامات پر تبادلہ خیال کے لیے رواں ہفتے ویانا میں ملاقات کرسکتے ہیں جبکہ یورپی بلاک امریکی ردعمل کا انتظار کر رہا ہے۔

بوریل نے اسپین میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واشنگٹن کی جانب سے متوقع تبصروں کے بارے میں کہا کہ مجھے امید ہے، یہ ردعمل ہمیں مذاکرات کو مکمل کرنے کی اجازت دے گا۔ یہ میری امید ہے لیکن میں آپ کو یقین نہیں دلا سکتا کہ ایسا ہی ہوگا۔

صدر جو بائیڈن نے اتوار کے روز فرانس، جرمنی اور برطانیہ میں ہم منصبوں سے مذاکرات کے بارے میں فون پربات چیت کی۔ چاروں ممالک نے ایران سے طے شدہ اصل معاہدے پر دست خط کیے تھے۔امریکی بیان کے مطابق ان رہ نماؤں نے ’’مشرقِ اوسط کے خطے میں شراکت داروں کی حمایت کو مستحکم کرنے کی ضرورت‘‘پر تبادلہ خیال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں