ایران جوہری معاہدے سے متعلق اجلاس رواں ہفتے ہونے کا امکان: یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کے اعلیٰ سفارت کارنے کہا ہے کہ ایران سے جوہری معاہدے کی بحالی کے بارے میں ممکنہ اجلاس رواں ہفتے منعقد ہوسکتا ہے۔ ایران یورپی یونین کی تجویز پراپنا جواب پیش کرچکا ہے اور اب اس کی روشنی ہی میں مزید پیش رفت ہوگی۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسیپ بوریل نے سوموارکو اسپین کے شہرسانتنڈر میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ گذشتہ ہفتے کے آخر میں ویانا میں ایک اجلاس ہونا تھا لیکن یہ ممکن نہیں ہوسکا۔اب یہ اس ہفتے ہوسکتا ہے۔

رواں ماہ کے اوائل میں بوریل اوران کی ٹیم کے ایران سے مربوط مذاکرات کے ایک سال سے زیادہ عرصے کے بعد یورپی یونین نے اسے ’’حتمی‘‘متن پیش کیا تھا۔

اس دستاویزکا مقصدامریکا کی جوہری معاہدے میں واپسی اوراس کی مکمل بحالی ہے۔واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2018 میں ایران سے طے شدہ جوہری معاہدے سے یک طرفہ طورپردستبردار ہوگئے تھے۔

امریکی صدر کے اس اقدام کے ردعمل میں ایران نے مشترکہ جامع لائحہ عمل (جے سی پی او اے) کی شرائط کی خلاف ورزی شروع کردی تھی اور یورینیم کو جوہری بم کی تیاری کی سطح تک افزودہ کرنا شروع کردیا تھا۔

بوریل نے کہاکہ ’’مذاکرات جہاں تک ہوسکتے تھے ہوچکے ہیں۔ایران اپنا ردعمل دے چکا ہے مگرامریکا نے ابھی تک باضابطہ طور پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ لیکن ہم امریکیوں کے جواب کے منتظر ہیں اور مجھے امید ہے کہ ان کا جواب ہمیں مذاکرات مکمل کرنے کی اجازت دے گا-

جے سی پی او اے کے دیگر فریق برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس ہیں۔دریں اثناء فرانسیسی صدرعمانوایل ماکرون نے پیر کے روزاسرائیلی وزیر اعظم یائرلاپیڈ سے فون پر بات کی ہے۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ نئی شرائط ’’اصل جے سی پی او اے کی حدود سے ماورا ہوں گی‘‘۔

تہران اسرائیل کا ازلی دشمن ہے اوریائرلاپیڈ نے خبردارکیا ہے کہ اس تاریخی معاہدے کی بحالی سے ایران کی اپنے علاقائی آلہ کاروں کے لیے مالی امداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے ایران کے دہشت گرد نیٹ ورک میں نمایاں سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی اور ایرانی فوج کو مضبوط بنایا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں