ٹویٹرپرسکیورٹی اورباٹس کے بارے میں امریکی ریگولیٹرز کو گمراہ کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوشل میڈیا کمپنی کے سابق سکیورٹی چیف پیٹرزَٹکو نے انکشاف کیا ہے کہ ٹویٹرنے اپنے سکیورٹی ڈیفنس اور جعلی اکاؤنٹس کے بارے میں امریکا کے وفاقی ریگولیٹرز کو گمراہ کیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے زَٹکو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹویٹر کے ایگزیکٹوز کے پاس پلیٹ فارم پر باٹس کی حقیقی تعداد کو مکمل طور پر سمجھنے کے وسائل نہیں ہیں اور وہ اس کی حوصلہ افزائی نہیں کر رہے تھے۔امریکا میں قائم سوشل میڈیا کمپنی اب برقی کارساز ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک کے ساتھ قانونی جنگ میں الجھی ہوئی ہے۔

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے جولائی میں کہاتھا کہ وہ 44 ارب ڈالر میں کمپنی کو خریدنے کرنے کا معاہدہ ختم کررہے ہیں۔انھوں نے ٹویٹرپر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا تھا۔

مسک نے ٹویٹرکمپنی پر اس بارے میں معلومات چھپانے کا الزام لگایا ہے کہ وہ سروس پر باٹس کے فی صد کا حساب کیسے لگاتی ہے۔اس سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت 17اکتوبر کو ہونے والی ہے۔

مؤقر روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق زَٹکو کی جانب سے یہ شکایت گذشتہ ماہ سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور محکمہ انصاف کے علاوہ فیڈرل ٹریڈ کمیشن میں درج کرائی گئی تھی۔

جنوری میں ٹویٹر نے کہا تھا کہ زَٹکو، ایک مشہور ہیکرجنھیں’’مج‘‘ کے نام سے زیادہ وسیع پیمانے پر جانا جاتا ہے، اب کمپنی کے سکیورٹی سربراہ نہیں رہے ہیں۔انھوں نے اس حیثیت میں دوسال تک خدمات انجام دی ہیں۔

ٹویٹر کے ترجمان نے منگل کو بتایا کہ زَٹکو کو جنوری 2022ء میں غیرمؤثر قیادت اور ناقص کارکردگی پرانھیں سینیرایگزیکٹو کے کردار سے برطرف کردیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں