ہم نے نہیں بلکہ ایران نے حساس معاملات پر رعایتیں دی ہیں: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی قومی سلامتی کونسل نے منگل کو کہا ہے کہ ایران نے حساس معاملات پر رعایتیں دی ہیں، واشنگٹن نے نہیں۔ کونسل نے مزید کہا کہ صدر جو بائیڈن اس بات پر پختہ اور پرعزم ہیں کہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب کا نام دہشت گردوں کی فہرستوں سے نہیں ہٹائیں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے تہران کو اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ایران کو 3.67 فیصد سے زیادہ کی شرح سے یورینیم افزودہ کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اسے 2031 تک 300 کلوگرام سے زیادہ یورینیم ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

بائیڈن انتظامیہ کے عہدہ دار نے منگل کے روز کہا کہ خلا اب بھی باقی ہے لیکن اگر ہم معاہدے پرواپس آنے کے سمجھوتے پر متفق ہو جاتے ہیں تو ایران کو اپنے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کے لیے بہت سے اہم اقدامات کرنا ہوں گے۔

اس ضمن میں اس عہدہ دار نے بتایا کہ ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے لیے فعال ہزاروں جدید سنٹری فیوجزکو روک دیا جائے گایاہٹا دیا جائے گا۔ان میں فردو میں زیرزمین واقع مضبوط جوہری تنصیب میں تمام سنٹری فیوجز بھی شامل ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی یورینیم افزودگی کی سخت حدود کا مطلب یہ ہوگا کہ اگروہ جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے معاہدے سے دستبردار بھی ہوجاتا ہے تو اس کو ایسا کرنے میں کم سےکم چھے ماہ لگیں گے۔

ایران سے مجوزہ معاہدے کو امریکا میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکن دونوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔اس عہدہ دار نے کہا کہ ’’پلوٹونیم پر مبنی جوہری ہتھیار‘‘ کی تیاری کے لیے کسی بھی ایرانی راستے کو بھی روک دیا جائے گا۔

بائیڈن انتظامیہ نے بار بار اپنےاس یقین کا ذکر کیا ہے کہ 2015 کے جوہری معاہدے کی بحالی ہی ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کا بہترین طریقہ ہے۔امریکی حکام گذشتہ کئی ماہ سے یہ کَہ رہے ہیں کہ یہ معاہدہ ’’ہفتوں کی دوری‘‘پر ہے۔

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ نیا معاہدہ 2015ء کے اصل معاہدے سے مختلف ہوگا۔امریکی عہدہ دار نے تجویز پیش کی کہ نئے معاہدے کے تحت ایران جوہری قدغنوں کا پابند ہوگا اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کو’’اب تک کے معائنے کے سب سے جامع نظام‘‘ پرعمل درآمد کے قابل ہونے کی اجازت دے گا۔

سینٹری فیوجز کو بند کرنا

کونسل نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ اپنے 20 فیصد اور 60 فیصد افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو تلف کرے اور ساتھ ہی یورینیم کی افزودگی کے لیے جدید سینٹری فیوجز کا کام بھی روک دے۔

بیان میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ کوئی بھی ممکنہ معاہدہ ایران پر اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے سے پہلے 6 ماہ کی مدت میں عائد ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں