جوہری معاہدہ بُرا ہے اور اس کے موجودہ متن کےساتھ قبول نہیں کیا جاسکتا: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایک ایسے وقت میں جب یورپی یونین ایران کے ساتھ نئے جوہری معاہدے کے حتمی متن کے بارے میں امریکی ردعمل کا انتظار کر رہی ہے ، اسرائیل نے اس متن کو ایک بار پھر مسترد کردیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم ییر لاپیڈ نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ جوہری معاہدے کا موجودہ متن بدترین ہے اور اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

ایک سو ارب ڈالر

انہوں نےاستفسار کیا کہ "ایرانیوں کے ساتھ کسی معاہدے پر کس طرح دستخط کیے جاسکتے ہیں جو انہیں اپنی تمام ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرنے کے لیے سالانہ ایک سو ارب ڈالر بھی دیں؟"

انہوں نےکہا کہ موجودہ متن امریکی صدر جو بائیڈن کے ذریعہ طے شدہ معیار کے مطابق نہیں ہے کیونکہ انہوں نے ایران کو ایٹمی ریاست میں تبدیل ہونے سے روکنے کا وعدہ کیا ہے۔

اگر جوہری معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں تو تل ابیب اس کا پابند نہیں ہوگا

امریکی انتظامیہ کے ساتھ مکالمہ

اسرائیلی وزیراعظم نے اس کی نشاندہی کی کہ "اسرائیلی حکومت امریکی انتظامیہ کے ساتھ تمام اختلافی امور پر کھلا مکالمہ کررہی ہے۔ وہ اس لیے بھی کہ واشنگٹن ہمارا قریبی دوست اور اتحادی ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے منگل کوکہا ہے اسرائیل ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر اثر انداز ہونے کے لیے اپنی طاقت سے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ امریکی صدرجو بائیڈن کی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ملیشیاؤں کو 250 ارب ڈالر کی منتقلی کی اجازت دے گا۔

اخبار "ٹائمز آف اسرائیل" کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل امریکا اور خطے کے ممالک کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں رابطے میں ہے جس کا مقصد تہران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنا ہے۔

"ہم پارٹی نہیں بنیں گے"

اخبار کے مطابق انہوں نے زور دے کر کہا کہ تل ابیب "کسی بھی معاہدے کا فریق نہیں بنے گا۔"

اسرائیلی انتباہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی قومی سلامتی کونسل نے تصدیق کی ہے کہ تہران نے حساس فائلوں میں رعایتیں دی ہیں۔

تاہم مشرق اور مغرب کی جانب سے آنے والے بیانات کے باوجود ایک امریکی اہلکار کے مطابق نئے جوہری معاہدے تک پہنچنے کے امکان کو لے کر اب بھی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔

اس اہلکار نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان ابھی بھی کچھ خلا موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں