سعودی بحریہ کے لیے اسپین میں تیارشدہ جنگی جہاز’الجبیل‘ کی شاہ فیصل اڈے پرآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کی شاہی بحریہ نے جمعرات کو شاہ فیصل نیول بیس پر چیف آف جنرل سٹاف جنرل فیاض بن حمد الروویلی کی موجودگی میں ہزمیجسٹی کے جہاز’الجبیل‘کااستقبال کیا ہے۔ سعودی عرب کے مغربی بحری بیڑے میں یہ جہازاسپین میں اپنے مینوفیکچرنگ ہیڈکوارٹر سے آیا ہے۔

سعودی بحری افواج نے’’السروات منصوبہ‘‘کے تحت سروس میں داخل ہونے والے پہلے ہزمیجسٹی جہاز’الجبیل‘کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد کی ہے۔اس منصوبہ کے تحت اعلیٰ جدیدصلاحیتوں ، ٹیکنالوجی اور کارکردگی کے حامل پانچ بحری جہازتیار کیے جارہے ہیں اور انھیں سعودی بحری بیڑے میں شامل کیا جائے گا۔

الجبیل (کارویٹ اونتے 2200) دنیا میں اپنی نوعیت کا جدید ترین جہاز ہے۔ یہ مختلف جنگی مشنوں سے نمٹنے کی صلاحیت کا حامل ہے اور اس میں فضا، سمندری سطح یا زیرسطح اہداف سے نمٹنے کی صلاحیت موجود ہے۔

شاہ فیصل بحری اڈے پر جہاز کی استقبالیہ تقریب میں شریک اعلیٰ افسر۔
شاہ فیصل بحری اڈے پر جہاز کی استقبالیہ تقریب میں شریک اعلیٰ افسر۔

استقبالیہ تقریب کے دوران میں چیف آف جنرل سٹاف جہازمیں سوار ہوئے۔انھوں نے اس کے مختلف حصوں کودیکھا اور جہاز کے لاگ میں اپنا نوٹ لکھنے سے قبل اس کے جدید اور ہائی ٹیک آلات کا معائنہ کیا۔

شاہی سعودی بحری افواج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فہد بن عبداللہ الغفیلی نے الجبیل کی آمد اور استقبال کو ایک ’’تاریخی لمحہ‘‘ قراردیا ہے اور کہا کہ سعودی مسلح افواج اور خاص طور پر بحری افواج کو وطن کی سرحدوں کے دفاع پر فخر ہے۔

انھوں نے کہا:’’جہاز کا حصول ایک عظیم اور تاریخی موقع ہے اور یہ السروات منصوبہ کے تحت تیار ہونے والا پہلا جہاز ہے۔ہم جلد ہی پے در پے دوسرے جہاز وصول کرنے کا جشن منائیں گے‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ جہاز کی آمد سے قبل اس کی تیاری میں قریباً چار سال لگے ہوئے ہیں اور یہ کئی مراحل میں مکمل ہوا ہے۔اس کاآغازہسپانوی شہرسان فرنینڈو کے نوانتیا شپ یارڈ میں اس کی تیاری کے وقت کیل بچھانے سے ہواتھا۔پھر جہازنے تیرتے ہوئے بندرگاہ اور سمندر میں کوالٹی کنٹرول ٹیسٹ پاس کیا۔افتتاحی مرحلے کے بعد جہازکے عملہ کی تربیت کا پروگرام مکمل ہوا تھا اور پھر جاکراس کو سعودی عرب میں بھیجا گیا ہے اور اس کی ساتھ ہی اس کی تیاریوں اور آمد کے تمام مراحل مکمل ہوگئے ہیں۔

سعودی عرب کی فوجی صنعتوں کی کمپنی (سامی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ولید ابو خالد نے مغربی بحری بیڑے میں شاہ فیصل نیول بیس پرالجبیل جہاز کی آمد کو ایک ’’تزویراتی قدم‘‘ قراردیا ہے۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ کمپنی 2030 تک فوجی اخراجات کے 50 فی صد کو مقامی بنانے میں مدد دینے کے اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے پیش رفت کررہی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ کمپنی اس ہدف کے حصول اور مسلح افواج اور اس کے تمام اسٹریٹجک شراکت داروں کے ساتھ مل کر تمام امکانات کو بروئے کارلارہی ہے۔اس میں مملکت کے بحری جنگی نظام کو مقامی بنانے میں شاہی سعودی بحریہ کی مدد کرنا بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں