میانمارمیں برطانیہ کی سابق سفیرگرفتار، لندن کا پابندیوں سے جواب دینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک سفارتی ذریعے نے جمعرات کو ’اے ایف پی‘ کو بتایا ہے کہ میانمار کے حکام سابق برطانوی سفیر وکی پومان کو ان کے شوہر سمیت حراست میں لے لیا ہے۔دوسری طرف برطانیہ نے میانمار پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔

وکی پومان جو 2002 اور 2006 کے درمیان میانمار میں برطانیہ کی کی سفیر رہ چکی ہیں کو بدھ کے روز ملک کے اقتصادی دارالحکومت رنگون سے گرفتار کیا گیا تھا۔ میانمار یکم فروری 2021 کی بغاوت کے بعد سے پرتشدد تنازعات کی لپیٹ میں ہے۔ پومان کی گرفتاری کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی تاہم ایک ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان کی گرفتاری کی خبر دی ہے۔

پومان یہ عہدہ سنبھالنے سے پہلے 1990 سے 1993 تک برطانوی سفارت خانے میں سیکنڈ سیکرٹری کے عہدے کے ساتھ سفارت کار تھی۔

برطانوی سفارت خانے کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ "ہمیں میانمار میں ایک برطانوی خاتون کی حراست پر تشویش ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ "ہم مقامی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ہم قونصلر مدد فراہم کر رہے ہیں۔"

اقوام متحدہ کے ایلچی میانمار کے پہلے دورے پر ہیں۔

سفارتی ذرائع نے واضح کیا کہ پومان کے شوہر اور آرٹسٹ ہٹن لن کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ پومان اور اس کے شوہر کو رنگون کی انسین جیل منتقل کر دیا گیا ہے اور ان پر امیگریشن کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا جائے گا۔

بومن میانمار سینٹر فار ریسپانسبل بزنس میں ڈائریکٹر ہیں اور برمی زبان میں روانی رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں