ویزایئرکا سعودی عرب سے 20 نئے یورپی روٹس پرپروازیں چلانے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ہنگری کی کم لاگت فضائی کمپنی ویزایئرنے سعودی عرب میں ایک بڑی توسیع کا اعلان کیا ہے۔اس کے تحت وہ الریاض، جدہ اور الدمام سے یورپ کے 20 روٹس کے لیے نئی پروازیں چلائے گی۔

یورپ کی کم بجٹ ایئرلائن نے کہا ہے کہ نئے روٹس بخارسٹ، بڈاپسٹ، کاتانیا، لارناکا، میلان، نیپلز،روم، صوفیہ،ترانہ، وینس اور ویانا سے مملکت کے تین شہروں کے لیے پروازیں چلائی جائیں گی۔ اس سے سعودی عرب کے عالمی روابط کو مضبوط بنانے کے منصوبوں کو تقویت ملے گی۔

کمپنی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے کرایوں کا آغازقریباً 55 ڈالر سے ہوگا۔ توقع کی جارہی ہے کہ مذکورہ نئے روٹس سے’’مملکت میں ویزایئر کی موجودگی میں بڑی حد تک اضافہ ہوگااور اگلے سال سعودی عرب میں مزید دس لاکھ غیرملکی زائرین آئیں گے۔

ویزایئر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) جوزیف وراڈی نے کہا:’’سعودی عرب ہوا بازی کے لیے دنیا کے سب سے دل چسپ ممالک میں سے ایک ہے۔وہ ناقابل فراموش مقامات، بے شماردل چسپ کششوں اور ایک پھلتے پھولتے ثقافتی پس منظر کے ساتھ سفر کے مواقع کا ایک دلکش امتزاج پیش کرتاہے‘‘۔

ویزائیر نے حال ہی میں سعودی حکومت کے ساتھ مفاہمت کی ایک یادداشت پر دست خط کیے تھے۔ اس کے تحت الریاض سے بڈاپسٹ اور بخارسٹ تک پروازیں یکم ستمبر سے شروع ہوجائیں گی اور باقی یورپی روٹس پرآیندہ سال اپریل تک پروازیں چلیں گے۔البتہ فضائی کمپنی نے ان کےلیے بُکنگ اور ٹکٹوں کی فروخت شروع کردی ہے۔

ان نئے فضائی روٹس کا مقصد سعودی عرب کے سیاحتی شعبے کو فروغ دینا ہےاور 2030 تک ملک میں غیرملکی مسافروں کی آمدورفت کو تین گنا بڑھانا ہے۔سعودی حکومت نے ویژن 2030 کے تحت غیرملکی سیاحوں کی موجودہ تعداد کو تین گنا تک بڑھانے کا ہدف مقرر کررکھا ہے۔

وراڈی نے کہا کہ ’’ہماری آپریشنل کارکردگی کے پیش نظرویزایئرنہ صرف مسافروں کو ناقابل یقین حد تک کم کرایوں کی پیش کش کرتی ہے بلکہ ہم دنیا میں سب سے کم عمر،جدید ترین اور پائیدارطیاروں کو بھی اڑاتے ہیں۔میں مملکت کو ویزایئر کے لیے ایک طویل مدتی تزویراتی منڈی کے طور پر دیکھتا ہوں جہاں ہم سعودی باشندوں اور زائرین کے فائدے کے ساتھ ساتھ ملک کی متنوع معیشت کے مفاد میں کم لاگت سفری سہولتیں مہیا کریں گے‘‘۔

سعودی عرب کی سیاحت اتھارٹی (ایس ٹی اے) کے سی ای او اور بورڈ کے رکن فہد حامدالدین نے نئے روٹس کو ’’دنیا میں کہیں بھی اس طرح کے سب سے بڑے اعلانات میں سے ایک‘‘قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ ویزایئراورسعودی عرب کے لیے ایک حقیقی پہلا گیٹ وے ہے اور یورپ سے آنے والے زائرین کے لیے ایک نیا اور سستا گیٹ وے بھی ہے جس سے ہر کوئی آکر دنیا کی سب سے دلچسپ نئی منزل دریافت کرسکے گا۔یہ غیرمعمولی شراکت داری تو پہلے سے موجود ہے اورآج اس کا صرف آغاز ہورہا ہے۔

انھوں نے مزیدکہا کہ ’’ہم بیرون ملک سے سعودی عرب میں آمد کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا رہے ہیں اورہمیں یقین ہے کہ سفری اختیارات اور مسابقت میں اضافے سے صارفین کے انتخاب میں توسیع ہوگی اور اخراجات میں کمی آئے گی‘‘۔

یادرہے کہ سعودی عرب کی جنرل اتحارٹی برائے شہری ہوا بازی (جاسا) کے سربراہ عبدالعزیز بن عبداللہ الدعیلج نے مئی میں العربیہ کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ 2030 تک مملکت میں سالانہ 33 کروڑ مسافروں کو سنبھالنے اور انتظام کے لیے ہوائی اڈوں کی گنجائش اور صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا۔

الدعیلج نے کہا کہ جاسا کا مقصد 2030 تک ہوابازی کے شعبے میں 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری لانا ہے اور توقع ہے کہ نجی اور سرکاری شعبے کی جانب سے اس شعبے میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔

انھوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ اتھارٹی الریاض اور جدہ میں دو بڑے ہوائی اڈوں کی تعمیرکا ارادہ رکھتی ہے۔ان میں ہرماہ ایک کروڑ مسافروں کو سنبھالنے کی صلاحیت ہوگی۔انھوں نے مزید کہا تھا کہ مملکت میں سیاحوں کی نقل وحرکت کو بہتربنانے کے لیے موجودہ ہوائی اڈوں میں بھی تعمیروتوسیع کی جائے گی۔

اتھارٹی نے 2030ء تک مملکت کے ہوائی اڈوں سے دنیا کی ڈھائی سو منازل کی جانب پروازیں چلانے کا ہدف مقررکیا ہے۔اس وقت سعودی ہوائی اڈوں سے مختلف ملکوں کے ایک سو مقامات کی جانب پروازوں کی آمدورفت ہورہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں