طرابلس میں متحارب مسلح گروہ میں تصادم، شہر فائرنگ سے گونج اٹھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں متحارب گروپوں کے درمیان مسلح تصادم شروع ہو گیا۔ ہفتے کے روز صبح سویرے اس تصادم کا آغاز طرابلس شہر کے وسط میں متحارب گروہوں کے درمیان ہوا تو آس پاس پورے شہر میں فائرنگ کی گونج سنی جانے لگی۔

کمانڈر ھیثم التاجوری کے ساتھ جڑے گروپ کی لڑائی عبد الغنی الککلی کے گروپ کے ساتھ ہوئی، جس کا آغاز ایک حملے سے ہوا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ انقلابی بریگیڈ کی قیادت ھیثم التاجوری کے پاس ہے۔

وہ ککلی کے حامی گروپ کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے اور اندرونی سیکورٹی سے متعلق ہیڈ کواٹر پر قبضہ کر لیا۔ یہ ہیڈ کواٹر الجماھیریہ میں واقع ہے۔ ہیڈ کواٹر پر قبضہ کرنے پر گاڑیاں ضبط کیں اور تین افراد کو گرفتار کر لیا۔

تیل کی دولت سے مالا مال ملک لیبیا میں اس وقت سے حالات خراب ہیں جب نیٹو نے معمر قذافی کو 2011 میں قتل کر دیا تھا اور ابھی تک حالات کی خرابی بہتری میں تبدیل نہیں ہو رہی ہے اور ملک عملاً متحارب گروپوں کے درمیان تقسیم ہو چکا ہے۔

لیبیا میں اس وقت دو حکومتیں قائم ہیں۔ لیبیا کا مشرقی علاقہ میں کمانڈر خلیفہ حفتر جبکہ لیبیا کے مغربی حصہ میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت ہے۔ دونوں حکومتوں کو مختلف مسلح گروہ اور بیرونی طاقتیں مدد دیتی ہیں۔

طرابلس میں قائم عبوری حکومت کو کمانڈر عبدالغنی الککلی کے مسلح گروپ کی حمایت وزیر اعظم عبدالحمید دبیبہ کو حاصل ہے۔ جبکہ لیبیا کے مشرقی حصے پر قابض وزیر اعظم فتحی باشاغا کو التجوری ملیشیا کی حمایت حاصل ہے۔ فتحی باشاغا اس سے پہلے وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں