لیبیا:فتحی باشاغاسے وابستہ فوجی قافلہ طرابلس کی جانب رواں دواں،لڑائی میں 12افرادہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں متحارب مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں میں بارہ افراد ہلاک اور کم سے کم 90 زخمی ہوگئے ہیں جبکہ فتحی باشاغا کی پارلیمنٹ کی حمایت یافتہ انتظامیہ سے وابستہ ایک فوجی قافلہ مصراتہ کے قریب زلیتن سے طرابلس کی جانب پیش قدمی کررہا تھا۔

لیبیا کے دارالحکومت میں جمعہ کی رات شدید لڑائی چھڑگئی تھی اور ہفتہ کی صبح تک جاری رہی تھی۔ حریف دھڑوں نے اس دوران میں شدید فائرنگ کا تبادلہ کیا اور شہر کے ارد گرد کئی زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپیں طرابلس کے وسطی حصے میں اس وقت شروع ہوئیں جب شہر میں موجود ایک مضبوط گروہ نے حریف فورس کے اڈے پر حملہ کیا۔اس کے نتیجے میں کئی گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا اوراس سے مقامی لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔

یہ واضح نہیں تھا کہ آیا اس لڑائی کا براہ راست تعلق حکومت پرکنٹرول کے حوالے سے لیبیا کے وسیع تر سیاسی تعطل سے ہے یا نہیں لیکن طرابلس میں طاقتورحریف گروپوں کے درمیان کسی بھی قسم کی جھڑپوں میں دوسرے مسلح دھڑوں کے کُودپڑنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

لیبیا کی وزارت صحت نے طرابلس میں مسلح گروہوں کے درمیان لڑائی میں 12 افراد کی ہلاکت اور 87 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔فیس بُک پر وزارت کے بیان میں ’’طرابلس میں لڑائی کے مقتولین اور مجروحین کے بارے میں ابتدائی اعداد و شمار‘‘ کا حوالہ دیا گیا ہے۔

شہر کے وسطی حصے سے آن لائن شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیو میں فوجی گاڑیوں کو سڑکوں پر تیز رفتاری سے گزرتے ہوئے، جنگجوؤں کی فائرنگ اور مقامی باشندوں کو آگ بجھانے کی کوشش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔دریں اثناء طرابلس یونیورسٹی نے لڑائی کی وجہ سے تدریسی سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔

خانہ جنگی کاشکار ملک کے سیاسی تنازع میں متحارب فریقوں کی حمایت کرنے والی مسلح فورسز کوحالیہ ہفتوں میں طرابلس کے ارد گرد بار بار متحرک ہوتے دیکھا گیا ہے۔ فوجی گاڑیوں کے بڑے قافلے شہر کے گرد گھوم رہے ہیں اور اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عبدالحمید الدبیبہ کے تحت طرابلس میں قومی اتحاد کی حکومت اور فتحی باشاغا کے تحت حریف انتظامیہ کے درمیان جاری سیاسی تعطل نے مسلح تنازع کی شکل اختیارکرلی ہے۔فتحی باشاغا کو ملک کے مشرق میں قائم پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے۔

لیبیا میں اقوام متحدہ کے مشن نے رواں ہفتے تشدد کے ذریعے تنازع کوحل کرنے کی کسی بھی کوشش پرخبردارکیا تھا۔فتحی باشاغا نے مئی میں بھی طرابلس میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔اس دوران میں کئی گھنٹے تک فائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں انھیں وہاں سے پسپا ہونا پڑا تھا۔انھوں نے حال ہی میں یہ عندیہ ظاہرکیا تھا کہ وہ دوبارہ دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

رواں ہفتے عبدالحمید الدبیبہ کے حامی دھڑوں نے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے طرابلس میں پریڈ کی تھی اورخبردارکیا تھا کہ وہ باشاغا اور ان کے حامیوں کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں