امریکا کا ترکیہ میں پاپ اسٹارکی گرفتاری اورعدالتی سنسرشپ پراظہارِتشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے ترکیہ میں سنسرشپ اورعدالتی ہراسانی کے ذریعے اظہارِرائے کو محدود کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ترکیہ میں گذشتہ جمعرات کو پاپ گلوکارہ گلسن کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔ان پرمنافرت پھیلانے اورنفرت پر اکسانے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔انھوں نے اپریل میں مذہبی اسکولوں کے بارے میں اسٹیج پرایک طنزیہ ویڈیونشرکی تھی اوراس کو صدررجب طیب ایردوآن کی حکومت کے حامی میڈیا نے نشر کیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ہفتے کے روز ایک بیان میں ان کے خلاف قانونی کارروائی پرتشویش کا اظہار کیا ہے۔مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ترک پاپ اسٹار گلسن کو استنبول کے ایک پراسیکیوٹرنے مذہبی اسکولوں کے بارے میں اسٹیج پر کیے گئے ایک تبصرے کے بعد حراست میں لیا تھا اور ان کے خلاف ’’لوگوں کو نفرت اوردشمنی پراکسانے‘‘کے الزامات کی تحقیقات کا آغازکیا ہے۔

گلوکارہ اورنغمہ نگار نے، جن کا پورا نام گلسن چولاک اوغلو ہے،ٹویٹر پر کہا کہ انھوں نے اپریل میں ایک پرفارمنس کے دوران میں ساتھیوں کے ساتھ مذاق کیاتھا اوراس پرنالاں ہونے والے کسی بھی شخص سے معافی مانگی تھی۔ انھوں نے مزید کہا کہ معاشرے میں انتشارپھیلانے کے لیے بعض لوگوں نے ان کے الفاظ کواستعمال کیا ہے۔

ترک اخبارحریت اوردیگر ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ گلوکارہ کے خلاف استنبول کے چیف پراسیکیوٹرکا دفترتحقیقات کررہاہے اور وزارتِ تعلیم نے ان کے تبصروں کی مذمت کی ہے اور ان کے خلاف اپنا قانونی عمل شروع کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں