داعش سے تعلق پر ولسن نامی امریکی شہری گرفتار

گرفتاری نیو میکسیکو میں کی گئی، داعش کے لیے تربیت کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ولسن نامی امریکی شہری کو داعش کی مدد کرنے اور اس کے تربیتی کیمپ کا اہتمام کرنے کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ولسن کو جمعہ کے روز گرفتار کیا گیا ہے۔ اسے منگل کے روز نیو میکسیکو کی وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

45 سالہ ولسن سے بھی پہلے سے گرفتار شدہ دو افراد نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں ولسن نے ہی انتہا پسند نظریات کی تربیت دی تھی۔ تاہم ولسن کے وکیل نے فوری طور پر اس بارے میں کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ وکیل سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا گیا تھا۔

امریکی اٹارنی کے دفتر کے مطابق ولسن کو بلال مومن عبداللہ کے نام سے بھی جانا جاتا یے۔ اسے اسی ہفتے کے شروع میں فیڈرل گریند جیوری کے سامنے پیش کیا گیا تھا تاکہ اس پر داعش کے ساتھ تعلق رکھنے کے جرم میں مقدمہ چلایا جا سکے۔

واضح رہے امریکہ نے داعش کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ امریکہ کے فیڈرل پراسیکیوٹر کو یقین ہے کہ ولسن نیو میکسیکو میں ' اسلامک سٹیٹ سنٹر ' کے قیام کے لیے کوشاں تھا۔ تاکہ داعش کے نظریات کی ترویج ہو سکے۔ اس سنٹر میں مارشل آرٹس کی تربیت کا بھی اہتمام کیا جانا تھا۔ تاکہ امریکہ کے اندر اور باہر داعش کے مخالفین سے جنگ کی جا سکے۔

ولسن کی گرفتاری سے قبل دو اور امریکی شہریوں کرسٹوفر میتھیو اور جالین مولینا کو بھی اسی جرم میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ ان پر الزام تھا کہ وہ داعش کے ھق میں مواد فراہم کر رتے تھے۔

پراسیکیوٹر نے ان پر الزام لگایا کہ یہ دونوں وائٹ ہاوس اور ٹرمپ ٹاور کو بم دھماکے سے اڑانے اور فائرنگ کا نشانہ بنانے کی سازش کرنے میں بھی ملوث تھے۔ بعد ازاں ان دونوں کو امریکی عدالتوں سے بالترتیب بیس سال اور اٹھارہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں