ایران جوہری معاہدہ

ایران نے نطنزمیں زیرزمین جدید آئی آر-6 مشینوں سے یورینیم کی افزودگی شروع کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران نے حال ہی میں نطنزمیں واقع اپنے زیرزمین افزودگی پلانٹ میں نصب جدید آئی آر-6 سنٹری فیوجزکے تین کیس کیڈز یا جھرمٹوں میں سے ایک کے ذریعے یورینیم کی افزودہ کاری شروع کردی ہے۔

ویانا میں قائم اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے (آئی اے ای اے) کی جانب سے رکن ممالک کو پیر کے روز پیش کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ایران یورینیم کو 5 فی صد تک افزودہ کرنےکے لیے 174 مشینوں کے کیس کیڈ استعمال کررہا ہے۔

اس خفیہ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ زیرزمین پلانٹ میں موجود دیگر دو آئی آر-6 کیس کیڈز میں سے ایک کو افزودگی سے پہلے کے عمل (پاسیویشن) سے گزرناپڑا ہے اور دوسرے میں ابھی تک جوہری مواد کا دخول نہیں کیا گیا تھا۔

قبل ازیں ایران کی جوہری ایجنسی کے سربراہ نے کہا تھاکہ اگر ویانا میں جوہری مذاکرات ناکام ہوجاتے ہیں توملک کا یورینیم کو 60 فی صد سے زیادہ افزودہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے ڈائریکٹر محمد اسلامی نے روسی خبررساں ایجنسی ریا(آر آئی اے) نووستی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افزودگی کی سطح ملک کی ضروریات سے عین مطابق ہے۔

انھوں نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی سے متعلق ہمارے اہداف ہماری صنعتی اور پیداواری ضروریات کو پورا کر رہے ہیں اور ہمارے لوگوں کی ضروریات کے مطابق ہیں۔ان سے جب پوچھا گیا کہ اگرویانا میں مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو کیا ایران یورینیم کو60 فی صد تک مصفا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے؟اس کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ’’نہیں‘‘۔

ویانا میں مذاکرات کا مقصد 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے کی بحالی ہے۔ان میں ایران اور جوہری سمجھوتے کے باقی رہ جانے والے پانچ فریق ممالک برطانیہ ،فرانس،جرمنی ، روس اورچین کے مذاکرات کاربراہ راست شریک ہیں جبکہ امریکا ان میں بالواسطہ شریک ہے۔

امریکا اور اس کے اتحادی مغربی ممالک ایران سے بار بار مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کی پُرامن نوعیت کے بارے میں پختہ یقین دہانی کرائے لیکن تہران باربار یہ کَہ رہا ہے کہ پہلے پابندیاں ختم کی جائیں۔

واضح رہے کہ ایران نے گذشتہ سال اپریل میں یورینیم کو 60 فی صد تک افزودہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس نے دشمن ملک اسرائیل پر اپنی ایک جوہری تنصیب میں تخریب کاری کا الزام عاید کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس کے ردعمل میں یورینیم کومقررہ حد سے زیادہ سطح تک افزودہ کررہا ہے۔

ایران نے نطنز میں واقع یورینیم افزودگی کے پلانٹ میں دھماکے کے ردعمل میں مذکورہ فیصلہ کیا تھا۔اس دھماکے سے سنٹری فیوجزمشینوں کو نقصان پہنچاتھا۔ان میں سے بعض ناکارہ ہوگئی تھیں اور بعض نے کام چھوڑدیا تھا۔ایرانی حکام نے اسرائیل پراس تخریبی حملے کا الزام عاید کیا تھا۔انھوں نے اس واقعہ کو’’جوہری دہشت گردی‘‘ قراردیاتھا اور اس کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

یادرہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ماضی میں کئی بار یہ کَہ چکے ہیں کہ اگر ملک کو ضرورت پیش آئی تو یورینیم کو 60 فی صد تک افزودہ کیا جاسکتا ہے۔یہ جوہری ہتھیار تیارکرنے کے لیے درکار90 فی صد افزودہ یورینیم سے کہیں کم سطح ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں