کانگریس کو’ایران جوہری معاہدہ ‘کامکمل متن دکھائیں:50قانون سازوں کابائیڈن سے مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی کانگریس میں حزب اقتداراورحزب اختلاف، دونوں کے 50 ارکان نے جمعرات کو صدر جو بائیڈن کو ایک خط لکھا ہے،اس میں ان سے مطالبہ کیاہے کہ وہ کانگریس سے مشاورت کے بغیرایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو حتمی شکل نہ دیں اور پہلے مجوزے معاہدے کا مکمل متن کانگریس میں پیش کریں۔

جوبائیڈن کولکھے گئے خط میں کہاگیا ہے کہ ہمیں متعدد دفعات پرگہری تشویش لاحق ہے کیونکہ وہ مبیّنہ طور پردہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی دنیا کی سرکردہ ریاست کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے حتمی متن میں شامل ہوسکتی ہیں۔

34 ڈیموکریٹس اور 16 ری پبلکن ارکان کا یہ دستخط شدہ خط ایران کے ساتھ 2015 میں طے شدہ جوہری معاہدے میں واپسی کے لیے بائیڈن انتظامیہ کے اصرار کی دو طرفہ مخالفت کامظہرہے۔

البتہ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی بحالی کے حوالے سے امریکا اور ایران کے درمیان خلیج اب بھی برقرار ہے۔اسے باضابطہ طور پر مشترکہ جامع لائحہ عمل (جے سی پی او اے) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

خط میں قانون سازوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ مجوزہ معاہدے سے ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب پرعاید امریکا کی پابندیوں کے اثرات کمزور ہوجائیں گےاور روس کو ایران کی جوہری صلاحیتوں کو بڑھانے میں کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔نیزایک دہائی کے دوران میں پابندیوں میں نرمی سے ایک کھرب ڈالر کی امداد کے ساتھ مضبوط ہونے والے ایران اور پاسداران انقلاب اندرون اور بیرون ملک امریکیوں اور ہمارے اتحادیوں کے لیے بڑا خطرہ ہوں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ایران کی سرپرستی میں امریکی سرزمین پر سابق امریکی حکام اور ایرانی نژاد امریکی منحرف افراد کے قتل کی دہشت گردی کی سازشوں کے تناظر میں یہ وقت ایران یا پاسداران انقلاب پرعایدامریک کی دہشت گردی کے ضمن میں پابندیوں کو ہٹانے، معطل کرنے یا کم کرنے کا نہیں ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کے حکام نے معاہدے میں دوبارہ داخل ہونے سے قبل کانگریس کی منظوری حاصل کرنے کی ضرورت پر زو دینے سے گریزکیا ہے۔قانون سازوں نے بائیڈن پر زور دیا کہ ’’وہ معاہدے کا مکمل متن کانگریس میں پیش کرنے سے پہلے ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں شامل نہ ہوں۔ہمیں اس معاملے پرتفصیلی بریفنگ دیں اورتمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کریں‘‘۔

قانون سازوں نے اس تجویز پربھی تنقید کی کہ ایک نئے معاہدے کے تحت ماسکوامریکا یا یورپی یونین کی جانب سے کسی نگرانی کے طریق کار کے بغیر’’تعمیل کا حقیقی جج اور ایران کے افزودہ یورینیم کا محافظ‘‘ ہوگا۔

انھوں نے’’جنگی مجرم‘‘ولادی میرپوتین پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی انتظامیہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ ’’روس کو ایران کے افزودہ یورینیم کا وصول کنندہ نہ بننے دیں اور نہ ہی اس کے ساتھ جوہری کام کرنے کا حق دیں جس میں ایران کے جوہری بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کے لیے 10 ارب ڈالر کا معاہدہ بھی شامل ہے۔ ایران یوکرین میں غیر قانونی جنگ کی حمایت کرتا ہے اور روس کو یوکرینیوں کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ڈرون مہیاکرتا رہا ہے‘‘۔

وہ خط میں مزید لکھتے ہیں:’’ہمیں جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران کے خطرے سے نمٹنا چاہیے، دہشت گردوں کے خلاف مضبوطی سے کھڑے ہونا چاہیے اور امریکی اقدار اور اپنے اتحادیوں کا تحفظ کرنا چاہیے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں