ایرانی بحریہ کا تجارتی جہاز پر ممکنہ قزاق حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ

12 مسلح بحری قزاق ایک کشتی پر تجارتی جہاز کے پاس مشکوک پائے گے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی بحریہ نے اپنے تجارتی جہاز پر بحری قزاقوں کے ممکن حملے کو نکام بنا دیا ہے۔ یہ واقعہ بحر احمر میں پیش آیا جہاں ایک مشکوک کشتی پر سوار بارہ مسلح افراد کی مشکوک سرگرمیاں دیکھی گئیں۔ اس کشتی پر ایرانی بحریہ نے فائرنگ کر کے اسے بھگا دیا۔

ایران کے خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق اسی طرح کا ایک واقعہ پچھلے ماہ بھی پیش آچکا ہے۔ جمعرات کے روز بحر احمر میں باب المندب کے قریب ایک مشکوک کشتی ایرانی تجارتی جہاز کے قریب آگئی۔

ارنا نے ارانی بحریہ کے ایک پریس نوٹ کے مطابق بتایا ہے کہ اس مشکوک کشتی پر بارہ مسلح افراد کی موجودگی کو دیکھتے ہوئے بحریہ کے ایک سکواڈرن نے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے پوزیشن لے لی اور اس پر فائرنگ کر دی۔

واضح رہے یہ واقعہ منگل کے روز جاری ہونے والے پینٹا گون کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایک ایرانی جہاز نے امریکی فوج کے بغیر افراد کے کشتی کو روک لیا۔ یہ در اصل امریکہ کا ایک ریسرچ کرنے والی کشتی تھی۔ لیکن ایران جہاز نے اسے اس وقت چھوڑ دیا جب امریکی ہیلی کاپٹر اور نیوی کی گشتی کشتی موقع پر پہنچ گئے۔

اس سے قبل 10 اگست کو ایک ایرانی سینئیر نیوی کمانڈر نے کہا تھا کہ ایرانی بحریہ کے اسی فلوٹیلا نے ایران کی ایک کشتی پر رات کے وقت حملے کو ناکام بنایا تھا۔ رئیر ایڈمرل مصطفیٰ تاجالدینی نے کہا ایرانی جہاز کی طرف سے بحر احمر میں مدد مانگی گئی تھی۔

اس کے فوری بعد ایرانی فلوٹیلا کو موقع پر بھیج دیا گیا اور اس نے حملہ آور کشتیوں پر فائرنگ کی، فائرنگ کے زبردست تبادلے کے بعد حملہ آور کشتیاں موقع سے بھاگ گئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں