میرے حامی ناراض ہیں اور میرے گھر پر حملے پر خاموش نہیں رہیں گے: ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی محکمہ انصاف پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان کی ساکھ کو داغدار کرنے کے لیے ضبط شدہ دستاویزات کی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔

جمعرات کو ٹرمپ نے کہا کہ ان کے حامی ناراض ہیں اور وہ ان کے گھر پر دھاوا بولنے پر خاموش نہیں رہیں گے۔ خیال رہے کہ ان کے گھر پر دھاوا بولنے پر رائے عامہ کے جائزوں میں سابق صدر کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

دستاویزات چھپانے کا ثبوت

امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ اس کے پاس ’ایف بی آئی‘ سے خفیہ دستاویزات چھپانے کے شواہد موجود ہیں جب اس نے گذشتہ جون میں فلوریڈا میں ٹرمپ کی جائیداد سے انہیں بازیافت کرنے کی کوشش کی تھی۔اس سے ایف بی آئی کو ان کے گھر کی بے تلاشی لینے پر مجبور کیا گیا تھا۔

54 صفحات پر مشتمل عدالتی دستاویزات میں منگل کے روز استغاثہ نے "انصاف کی راہ میں رکاوٹ" کے اپنے ثبوت پیش کیے۔ ٹرمپ کے دو معاونین پر پہلی بار عوامی طور پر الزام لگایا کہ انہوں نے جون میں جھوٹی تصدیق کی تھی کہ سابق صدر نے اپنے گھر پر محفوظ تمام سرکاری ریکارڈ واپس کر دیے تھے۔

استغاثہ نے انکشاف کیا کہ ٹرمپ کے وکلاء نے "سرکاری ملازمین کو سٹوریج روم کے اندر کسی بھی ڈبے کو کھولنے یا دیکھنے سے واضح طور پر منع کیا" مگر ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے پہلی بار جون میں پام بیچ میں مار-اے-لاگو ریزورٹ کا سفر کیا تاکہ ریکارڈ حاصل کر سکیں۔

فلوریڈا کے جنوبی ضلع کے لیے امریکی ضلعی عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں محکمے نے کہا کہ حکومت کو یہ ثبوت بھی ملے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ حکومت کی تحقیقات میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش میں حکومتی ریکارڈ کو سٹوریج روم سے چھپایا اور ہٹا دیا گیا ہو۔

اس نے ٹرمپ کے گھر کے اندر سے پائے جانے والے کچھ ریکارڈز کی تصویر پوسٹ کی، جس پر لیبل لگے ہوئے تھے کہ انہیں "خفیہ" قرار دیا گیا ہے۔

جج ایلین کینن کے سامنے ویسٹ پام بیچ میں آج عدالتی سماعت مقرر ہے، جو 8 اگست کو مار-اے-لاگو سے برآمد ہونے والی دستاویزات کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی عدالتی نگران مقرر کرنے کی ٹرمپ کی درخواست پر غور کر رہی ہیں۔

سپیشل جوڈیشل سپروائزر ایک آزاد تیسرا فریق ہے، جسے بعض اوقات عدالتوں کے ذریعے حساس مقدمات میں مقرر کیا جاتا ہے، تاکہ اٹارنی کلائنٹ کے استحقاق کے تحت ہونے والے مواد کا جائزہ لیا جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں