ہرات کی گذر گاہ مسجد میں خوفناک دھماکے میں شعلہ بیان خطیب بھی جاں بحق

عینی شاہدوں کے مطابق صحن مسجد میں ہر طرف لاشیں بکھر گئیں، خون پھیل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان کے مغربی شہر ہرات کی سب سے بڑی جامع مسجد میں جمعہ کے روز ایک زور دار دھماکے کے نتیجے میں افغانستان کے ایک بڑے عالم دین اور طالبان حکومت کے غیر معمولی حامی جانبحق ہو گئے ہیں۔ اسی طرح کے 17 اگست کو ہونےوالے ایک دھماکے میں اکیس نمازی جاں بحق ہو گئے تھے۔

جاں بحق ہونےوالے اس عالم دین مجیب الرحمان انصاری نے اسی سال مطالبہ کیا تھا کہ امارت اسلامی کی حکومت کے خلاف چھوٹی سے چھوٹی حرکت کرنےوالے کو بھی سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مولانا مجیب الرحمان کے اس دھماکے میں جانبر نہ ہو سکنے کی تصدیق کی ہے۔

ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے اپنے ٹویٹر پیغام میں مزید کہا ہے کہ مولانا مجیب انصاری ملک کے مشہور، مضبوط اور بہادر عالم دین تھے۔ انہیں ایک وحشیانہ مگر بزدلانہ حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ واضح رہے وہ ایک شعلہ بیان مقرر تھے۔ وہ طالبان کے زبردست حامی تھے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا طالبان کا پرچم آسانی بلند نہیں ہوا اس لیے آسانی سے نیچے آنے گا۔

ہرات کی اس گذرگاہ مسجد کو دھماکے کے بعد دیکھنے والے عینی شاہدین کے مطابق صحن مسجد میں ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں اور مسجد میں جگہ جگہ خون کے دھبے نظر آرہے تھے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق دھماکے سے زیادہ ہلاکتوں کا اندیشہ ہے۔ تاہم ابھی فوری طور پر ہلاکتوں کی صحیح تعداد سامنے نہیں آسکی ہے۔

طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد بد امنی کے واقعات میں کمی آگئی تھی لیکن کچھ عرصہ سے کمی آئی ہے۔ لیکن اس کے باجود بعض حالیہ مہینوں میں کئی بم دھماکے ہو چکے ہیں۔ ان یں سے کئی دھماکوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔

کئی بم دھماکوں اقلیتی گروہوں کے لوگ مارے گئے ہیں۔ ادھر طالبان کے ذرائے سے معلوم ہوا ہے کہ مونا مجیب الرحمان انصاری سے پہلے بلند مرتبے کے حامل ایک عالم دین مولانا رحیم اللہ حقانی ایسے ہی ایک دھماکے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔ مولانا رحیم اللہ حقانی کے بم دھماکے کے محض چند ہفتے بعد یہ دوسرا بم دھماکہ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں