بھارتی وزیرخارجہ کی اماراتی صدر سے ملاقات ،دوطرفہ تعلقات کے فروغ پرتبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کو رواں سال کے اوائل میں دست خط شدہ آزاد تجارتی معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے بھارت کے ساتھ تزویراتی بات چیت سے قبل وزیراعظم نریندر مودی کا ایک خط موصول ہوا ہے۔

امارات نیوزایجنسی (وام) کی رپورٹ کے مطابق یہ خط بھارتی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے ابوظبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات کے موقع پردیا ہے۔

جے شنکر اور شیخ محمد نے دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعلقات اور تعاون کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کے متعدد علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

ڈاکٹر جے شنکر نے متحدہ عرب امارات کے اپنے ہم منصب شیخ عبداللہ بن زاید سے ملاقات کی جس میں جامع تزویراتی شراکت داری معاہدے (سی ای پی اے) کے تحت بھارت اور یو اے ای کے مشترکہ کمیشنوں کے اجلاس اور اقتصادی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بھارت کی وزارت خارجہ کی پریس ریلیز کے مطابق طرفین نے توانائی میں شراکت داری اور دو طرفہ سرمایہ کاری کو مزید مستحکم کرنے کے طریقوں پربات چیت کی ہے۔

وزراء خارجہ نے’’فنٹیک، ایڈوٹیک، ہیلتھ ٹیک، ایگری ٹیک، لاجسٹکس اور سپلائی چین جیسے مختلف شعبوں میں اسٹارٹ اپ اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دینے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اس کے علاوہ ’’کسی بھی ملک میں فوری ادائی کے پلیٹ فارموں کو مربوط بنانے کے امکان پرغور کیا۔بھارت میں یونائیٹڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی) اس ضمن میں ایک مثال ہے۔

ملاقات میں شیخ عبداللہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور بھارت اپنے تزویراتی تعلقات کے لیے ایک جدید اور پائیدار ماڈل بنانا چاہتے ہیں۔دونوں ممالک اپنے مشترکہ مفادات اور اپنے عوام کے مفادات کو آگے بڑھانا اورانھیں مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

بھارتی وزیرخارجہ نے ان سے گفتگو میں ’’اپنی قیادت کی امنگوں کو پورا کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے تزویراتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور ترقی دینے کی خواہش کا اعادہ کیا اور کہا کہ ان کی شراکت داری کے فریم ورک کے اندر کی گئی پیش رفت باعثِ فخر ہے اور مشترکہ ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے مزید کامیابیوں کے حصول کا محرک ہے‘‘۔


آزاد تجارتی معاہدہ

دونوں ملکوں کے درمیان جامع تزویراتی شراکت داری معاہدے (سیپا) پر18 فروری کو دست خط کیے گئے تھے اور اس کا اطلاق یکم مئی 2022 سے ہوا تھا۔

اس وقت بھارتی وزیراعظم کے دفتر نے کہا تھا کہ اگلے تین سے پانچ سال کےدوران میں اس سے سالانہ دو طرفہ غیر تیل کی تجارت 60 ارب ڈالر سے بڑھ کر 100 ارب ڈالر ہو جائے گی۔

یواے ای کے وزیرتجارت ثاںی الزیودی نے فروری میں معاہدے کے عام ہونے کے بعد رائٹرز کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کا بہت بڑا بہاؤ ہوگا اور اس سے مزید کاروباری مواقع کا دروازہ کھل جائے گا۔

الزیودی نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات اور بھارت کی تجارتی اشیاء پر 80 فی صد محصولات ختم کیے گئے ہیں جبکہ دس سال کے اندر تمام محصولات ختم کیے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی اجناس جیسے ایلومینیم، تانبے اور پیٹرو کیمیکلز سے محصولات کے خاتمے سے ملک کو فائدہ ہوگا۔اس معاہدے میں خدمات، سرمایہ کاری، حقوق دانش اور یواے ای کی جانب سے 2030 تک بھارت سے انتہائی ہنرمند کارکنوں کومنگوانے کے لیے ایک لاکھ 40 ہزارویزے دینے کے عزم کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔

بھارت متحدہ عرب امارات کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے جہاں ہر سال خلیجی ریاست میں کام کرنے والے تیس لاکھ سے زیادہ بھارتیوں کی جانب سے اربوں ڈالر کی ترسیلات زر وطن میں بھیجی جاتی ہیں۔

امارات کی وزارت معیشت کے مطابق 2030 تک سی ای پی اے مجموعی ملکی پیداوار میں 9 ارب ڈالر یا 1.7 فی صد کا اضافہ کرے گا، برآمدات میں 7.6 ارب ڈالر یا 1.5 فی صد اضافہ ہوگا اور درآمدات میں 14.8 ارب ڈالر یعنی 3.8 فی صد اضافہ ہوگا۔توقع ہے کہ اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد میں ڈیڑھ سے دوسال لگیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں