چیچنیا کے رہ نما رمضان قدیروف کا عہدے سے استعفیٰ دینے پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چیچنیا کے روس نواز رہ نما رمضان قدیروف دارالحکومت گروزنی میں اپنے عالیشان محل میں فلمائی گئی ایک ویڈیو میں یہ کہتے دیکھے جا سکتے ہیں کہ وہ عہدہ چھوڑنے پرغور کررہے ہیں۔ انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹیلی گرام پر اپنے پیروکاروں کو بتایا کہ وہ اس عہدے سے مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ 15 سال سے ملک کے صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔

جمہوریہ چیچنیا میں "وارلارڈ" کے نام سے جانا جاتا ہے اور یوکرین میں پوتین کی فوجی مہم کے سب سے بڑے حامیوں میں سے ایک ہیں۔انہوں نے کاکیشین اور چیچن کا ایک مشہور قول ذکر کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ "خواہ ایک طویل انتظار کے مہمان کی کتنی ہی عزت ہو، اگر وہ وقت پر چلا جاتا ہے تو یہ خوشگوار ہوتا ہے۔" پھر کہا کہ"مجھے لگتا ہے کہ میرا وقت بھی آ گیا ہے"۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے برطانوی اخبار "ڈیلی ٹیلی گراف" کی ویب سائٹ پر نشر رپورٹ ملاحظہ کی ہے۔ یہ اگرچہ ایک مختصر ویڈیو ہے جو صرف ایک منٹ اور 37 سیکنڈ ہے جس میں انہیں مسکراتے دیکھا جا سکتا ہے۔

لندن میں رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے ایسوسی ایٹ فیلو برطانوی سیموئیل رامانی کے مطابق اخبار کے ذریعے متعدد مغربی تجزیہ کاروں نے اس ویڈیو کو قدیروف کے لہجے میں ایک بنیادی تبدیلی قرار دیا۔ تجزیہ نگاروں نے رمضان قدیروف کے اس ممکنہ فیصلے کو روسی صدر ولادی میر پوتین کے لیے ایک دھچکا قرار دیا ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں نے قدیروف کے الفاظ پر سوال اٹھائے ہیں، جن میں 30 سالہ ایوان کلیسزز شامل ہیں۔ ایسٹونیا کی ترتو یونیورسٹی میں شمالی قفقاز کے ایک تجزیہ کار ہیں۔ انہوں نے ذکر کیا کہ چیچن رہ نما نے ماضی میں بھی ایسی باتیں کہی ہیں۔ دسمبر 2018 میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ وفاقی سطح پر نہیں بلکہ ضلع کے صدر کی حیثیت سے اپنا کیریئر ختم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ عہدہ چھوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ لیکن وقت گزر گیا اور قدیروف نے عملا عہدہ چھوڑںے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

2007 میں روسی صدر ولادیمیر پوتین نے قدیروف کو ترقی دے کر چیچنیا کا لیڈر بنا دیا۔ اس کے بعد وہ ان کے کھلے عام حامی بن گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں