’اسرائیل ایران کے ساتھ "خطرناک" جوہری معاہدے کو روکنے کے لیے بھرپور مہم چلا رہا ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی وزیر اعظم یائر لپیڈ کے ترجمان اوفیر گینڈلمین نے آج اتوار کے روز ان کے حوالے سے بتایا کہ موساد کے سربراہ کل واشنگٹن جائیں گے جہاں وہ کئی ملاقاتیں کریں گے جس کا مقصد امریکی انتظامیہ کو اسرائیل کے موقف کی وضاحت کرنا اور امریکا کو ایران کے ساتھ جوہری ڈیل سے روکنا ہے۔

لپیڈ نے اشارہ کیا کہ گذشتہ بدھ کوانہوں نے امریکی صدرجو بائیڈن کے ساتھ فون کال پربات کی تھی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے متن پر ہمارے تبصروں کو مدنظر رکھا ہے۔

بعد میں گینڈل مین نے اسرائیلی حکومت کے اجلاس کے آغاز میں لیپڈ کے حوالے سے کہا کہ "ہم ایک بھرپور مہم چلا رہے ہیں جو ایران اور بڑی طاقتوں کے درمیان خطرناک جوہری معاہدے پر دستخط کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یروشلم پوسٹ نے لیپڈ کے حوالے سے میٹنگ کے آغاز میں کہا کہ اسرائیل امریکہ پر دباؤ ڈالتا رہے گا کہ وہ ایران جوہری معاہدے میں شامل نہ ہو لیکن اس دباؤ میں وہ امریکا کے ساتھ تعلقات کو خراب نہیں ہونے دے گا۔

لپیڈ نے مزید کہا کہ "صحیح پالیسی وہی ہے جس کی ہم گزشتہ سال سے رہ نمائی کر رہے ہیں۔ وہ یہ کہ دباؤ بنائے رکھنا اور بغیر کسی ٹوٹ پھوٹ کے، قابل اعتماد انٹیلی جنس فراہم کرنا، امریکا کے ساتھ مراعات یافتہ تعلقات کو تباہ کیے بغیر اس عمل کا حصہ بننا ہے"۔ .

اس تناظر میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اتوار کو جرمنی سے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

اسرائیلی حکام ایران کو جوہری معاہدے تک پہنچنے سے روکنے کے لیے کئی حربے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی سے اس کے خلاف تحقیقات بند کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جس سے نئے جوہری معاہدے پر ہونے والے مذاکرات کے خاتمے کا خدشہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں