اوپیک پلس

اوپیک پلس کا سعودی چیئرمین پراظہارِاعتماد؛مارکیٹ میں اتارچڑھاؤ سے نمٹنے کااختیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تیل برآمدکنندگان کے گروپ اوپیک پلس کے رکن ممالک نے اپنے چیئرمین سعودی وزیرتوانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان آل سعود پراعتماد کا اظہار کیا ہے اور انھیں اختیار دیا ہے کہ وہ وقتِ ضرورت اجلاس بلاکر خام منڈیوں کو مستحکم کرنے کے لیے ضروری مداخلت کرسکتے ہیں۔

روس کی قیادت میں اوپیک اور اس کے اتحادیوں نے پیر کے روز یومیہ پیداوار میں ایک لاکھ بیرل کی معمولی کٹوتی سے اتفاق کیا ہے۔

اوپیک پلس کا آیندہ اجلاس 5 اکتوبر کو طلب کیا گیا ہے لیکن گروپ نے کہا کہ وہ اس سے پہلے پیداوارکی مطابقت کے لیے کسی بھی وقت اجلاس بلا سکتا ہےاور آیندہ جب بھی ضرورت پڑتی ہے تو وہ اپنے چیئرمین کو مارکیٹ کی پیش رفت سے نمٹنے کا اختیاردیتا ہے۔

اوپیک کے ذرائع نے بتایا کہ رکن ممالک نے اپنے چئیرمین پر اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ وہ مارکیٹ میں مزید استحکام لانے کے لیے جب بھی ضروری ہو، مداخلت کر سکتے ہیں اورایسا کوئی اقدام (اوپیک پلس) معاہدے کے اختتام تک اکتوبر سے آگے ہو سکتا ہے۔

اوپیک کے ایک اور ذریعے نے بتایا کہ یہ فیصلہ مارکیٹ میں اتارچڑھاؤ پر قابو پانے کے لیے کیا گیا ہے۔کیونکہ قیمتوں میں اتارچڑھاؤ تشویش کو بڑھا رہا ہے، گروپ قیمت کی کسی خاص سطح پر غور نہیں کر رہا ہے جس پر وہ پورا اترے گا۔

اوپیک تیل کی قیمتوں میں بے دریغ اتار چڑھاؤ کا مشاہدہ کر رہا ہے اور اس کے حقیقی رہنما سعودی عرب نے گذشتہ ماہ پیداوار میں کمی کے امکان کی نشان دہی کی تھی تاکہ تیل کی قیمتوں میں مبالغہ آمیز کمی پر قابو پایا جا سکے۔

بینچ مارک برینٹ خام تیل ایل سی او سی 1 مغرب میں معاشی سست روی اور کساد بازاری کے خدشات پر تقریبا 95 ڈالر فی بیرل رہ گیا ہے۔جون میں اس کی قیمت 120 ڈالرفی بیرل تھی۔

خلیجی ذرائع نے بتایا کہ پیر کا فیصلہ عالمی طلب کا صرف 0.1 فی صد ہے اور بنیادی طور پر اسٹیٹس کو برقرار رکھتا ہے لیکن مارکیٹ کے لیے یہ ایک اہم بیان تھا۔

اس معاملے کی معلومات رکھنے والے ایک اور ذریعے کہا کہ آج کی کٹوتی علامتی ہے اور اس کا مقصد مارکیٹ کو یہ پیغام دینا ہے کہ گروپ استحکام لانے کے لیے اپنی کِٹ میں موجود تمام آلات استعمال کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں