برطانیہ: لیزٹرس کنزرویٹو پارٹی کی لیڈرمنتخب ،نئی وزیراعظم نامزد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانیہ کی قدامت پسند پارٹی نے لیزٹرس کو پیر کے روز ملک کی نئی وزیراعظم کے طور پرنامزد کیا ہے۔انھوں نے ایک ایسے وقت میں حکمران کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کی دوڑمیں فتح حاصل کی ہے جب ملک کو معاشی بحران، صنعتی بدامنی اور کساد بازاری کا سامنا ہے۔

قدامت پسند پارٹی کے نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے کئی ہفتے تک زوردارسیاسی مہم جاری رہی ہے۔آخرمیں وزیرخارجہ لیزٹرس اورسابق وزیر خزانہ رشی سوناک مدمقابل ٹھہرے تھے اور ٹرس کنزرویٹو پارٹی کے ارکان کے ووٹ میں سرفہرست رہی ہیں۔انھوں نے 60,399 کے مقابلے میں 81,326 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔

ٹرس نے ان نتائج کے اعلان کے بعد کہا کہ ہمیں یہ دکھانے کی ضرورت ہے کہ ہم اگلے دو سال میں ملک وقوم کے لیے کچھ کریں گے۔میں ٹیکسوں میں کمی اور اپنی معیشت کو فروغ دینے کا جرات مندانہ منصوبہ پیش کروں گی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’میں توانائی کے بحران کو پورا کروں گی، لوگوں کے توانائی کے بلوں سے نمٹوں گی بلکہ توانائی کی فراہمی سے متعلق درپیش طویل مدتی مسائل سے بھی نمٹوں گی‘‘۔

اس اعلان سے بورس جانسن سے اقتدار کی منتقلی کا بھی آغاز ہوا چاہتاہے۔انھیں کئی ماہ کے اسکینڈل کے بعد جولائی میں مجبوراً مستعفی ہوناپڑا تھا۔وہ منگل کو ملکہ ایلزبتھ سے ملاقات کے لیے اسکاٹ لینڈ جائیں گے تاکہ باضابطہ طور پر اپنا استعفا پیش کرسکیں۔ پھر ان کی جگہ ٹرس کو ملکہ کی جانب سے حکومت بنانے کی دعوت دی جائے گی۔

جانسن کی جگہ لینے کی دوڑ میں فرنٹ رنر ٹرس 2015 کے انتخابات کے بعد کنزرویٹوپارٹی کی چوتھی وزیر اعظم بن جائیں گے۔اس عرصے کے دوران میں ملک مختلف بحرانوں سے دوچار رہا ہے۔ایک طویل کساد بازاری کے بعد افراط زرکی شرح میں نمایاں اضافہ ہوچکا ہے اور یہ جولائی میں 10.1 فی صد تک پہنچ گئی تھی۔

بورس جانسن کی قیادت میں 47 سالہ وزیرخارجہ ٹرس نے برطانیہ میں زندگی گزارنے کے بحران سے نمٹنے کے لیے فوری کارروائی کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندرتوانائی کے بڑھتے ہوئے بلوں سے نمٹنے اور مستقبل میں ایندھن کی رسد کو محفوظ بنانے کا منصوبہ تیار کریں گی۔

تجربہ کارکنزرویٹو قانون سازڈیوڈ ڈیوس نے کہا ہے کہ 1979 میں کنزرویٹو مارگریٹ تھیچر کے بعد ٹرس کو وزیراعظم کی حیثیت سے سب سے بڑے چیلنج درپیش ہیں۔انھوں نے ان کے دورِحکومت کوجنگ کے بعد کے ’’وزرائے اعظم کا شاید دوسرا سب سے مشکل مختصر دور‘‘قراردیا۔

ٹرس کا کہنا ہے کہ وہ ایک مضبوط کابینہ تشکیل دیں گی۔اس کو ان کے قریبی ذرائع نے حکومت کا "صدارتی طرز" قرار دیا ہے اور انھیں اپنی پارٹی کےان بعض قانون سازوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کرنا ہوگی جنھوں نے اس دوڑ میں سنک کی حمایت کی تھی۔

تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار گورنمنٹ کے مطابق ٹرس کا نقطہ آغاز ان کے کسی بھی پیشرو کے مقابلے میں کمزورہوگا کیونکہ وہ اپنی پارٹی کے قانون سازوں میں سب سے زیادہ مقبول انتخاب نہیں تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں