سعودی وزارتِ خارجہ نے کابل میں روسی سفارت خانہ پرداعش کے بم حملے کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں روسی سفارت خانے پر بم حملے کی مذمت کی ہے۔داعش نے اس بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

کابل میں پیر کو روسی سفارت خانے کے بیرونی دروازے پربم دھماکے میں سفارتی عملہ کے دوارکان سمیت چھے افراد ہلاک ہوگئے تھے۔سعودی وزارت خارجہ نے ٹویٹر پرایک بیان میں کہا کہ وہ ہر جگہ بے گناہ لوگوں اور سفارتی مشنوں کو نشانہ بنانے والی دہشت گرد کی کارروائیوں کو مکمل طور پر مستردکرتی ہے۔

اس نے سعودی عرب کی جانب سے دہشت گردی اورانتہاپسندی کو اس کی تمام شکلوں اور مظاہر میں ختم کرنے،اس کی مالی معاونت کے ذرائع سے نمٹنے اور مالی سوتے خشک کرنے کے مقصد سے تمام بین الاقوامی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

بیان میں تمام مہلوکین کے اہل خانہ اور روسی حکومت کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے۔

سخت گیرجنگجو گروپ نے ٹیلی گرام چینلز پرجاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ داعش کے ایک جنگجو نے سفارت خانے کے قریب ایک اجتماع میں اپنی خودکش جیکٹ کو دھماکے سے اڑایا ہے۔اس اجتماع میں سفارت خانہ کے روسی ملازمین بھی شریک تھے۔

روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ نامعلوم جنگجو نے کابل کے مقامی وقت کے مطابق سوموار کی صبح 10 بج کر50 منٹ پر سفارت خانے کے قونصلر سیکشن کے داخلی دروازے کے قریب دھماکاخیز مواد کواڑایاتھا۔ اس بم دھماکے میں 11 دیگرافراد زخمی ہوئے تھے۔

گذشتہ جمعہ کو نماز کے دوران میں ایک مسجد کے باہربم دھماکے میں طالبان کے حامی ایک عالم دین سمیت 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ان حالیہ مہلک دھماکوں کے باوجود طالبان کاکہنا ہے کہ انھوں نے ملک میں سلامتی کی صورت حال کوبہتر بنایا ہے۔اقوام متحدہ نے افغانستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے حملوں کے بارے میں خدشات ظاہر کیے ہیں۔

روس ان چند ممالک میں سے ایک ہے جنھوں نے ایک سال سے زیادہ عرصہ قبل طالبان کے ملک پر قبضہ کرنے کے بعد کابل میں اپنا سفارت خانہ برقرار رکھاہوا ہے۔اگرچہ ماسکو طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کرتا لیکن وہ افغان حکام کے ساتھ گیسولین اور دیگراجناس کی برآمدات کے معاہدے پر بات چیت کررہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں