دھمکی آمیز واٹس ایپ میسجز کی بھر مار، نوجوان نے خود کشی کر لی

عدالت نے میسجز میں دھمکانے والے کو دس سال قید کی سزا سنا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سپین کی ایک عدالت نے ساٹھ سالہ شخص کو دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اس نے ایک سترہ سالہ نوجوان کو واٹس ایپ کے ذریعے ایک ہی دن میں 119 دھمکی آمیز پیغام بھیجے جن کے بعد اس نے خوف سے خود کشی کر لی تھی۔

ساٹھ سالہ شخص کو خودکشی کرنے والے نوجوان نے کہا بھی تھا کہ وہ اسے خودکشی پر مجبور کر رہا ہے۔ اگر اس نے دھمکانے کا یہ سلسلہ جاری رکھا تو وہ خود کشی کر لے گا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ ساٹھ سالہ شخص پوری طرح آگاہ تھا کہ اس کی وجہ سے ایک نو عمر خود کشی پر مجبور ہو سکتا ہے۔ اسکے باوجود وہ اسے مسلسل دھمکاتا رہا بلیک میل کرتا رہا کہ وہ اسکے والدین کو اس امر سے آگاہ کر دے گا کہ اس نے بالغوں والی ایک سائٹ وزٹ کی ہے۔

بالآخر اس سترہ سالہ بچے نے مجبور ہو کر اسی روز خود کشی کر لی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ 2016ء کی بات ہے جب تین گھنٹے کے دوران مسلسل اس شخص نے 119 واٹس ایپ میسجز بھیجے تھے۔

اس صورت حال میں لڑکے نے بار بار اس سے معافی مانگی اور اسے کہا کہ وہ اسے میسج نہ کرے اگر اس نے یہ سلسلہ نہ روکا تو مجبورا خودکشی کر لے گا۔ اس دوران سترہ سالہ لڑکے اپنے گھر کی اوپر والی ممزل سے گھر کے اندرونی صحن میں چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی۔

عدالت نے اس واقعے کے کئی سال بعد مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے دس سال قید سنانے کے علاوہ 173000 یورو کا کی رقم زرتلافی کے طور پر نو عمر کے والدین اور بھائی کو ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں