کویت:پارلیمان کے طویل عرصہ سے اسپیکرکارواں ماہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کویت کی پارلیمان کے اسپیکر مرزوق علی محمد ثنيان الغانم نے کہا ہے کہ وہ رواں ماہ ہونے والے قانون سازاسمبلی کے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔

مرزوق الغانم نے اپنے اعلان میں کہا ہےکہ وہ ’’ہرمرحلے کے حالات اور تقاضوں‘‘ کی بنیاد پرانتخابات میں حصہ نہیں لیں گے اور وہ مستقبل میں ’’مضبوط واپسی‘‘ کاارادہ رکھتے ہیں‘‘۔

اس خبر کا خیرمقدم کرتے ہوئے حزب اختلاف کے سابق رکن پارلیمنٹ بدرالضحوم نے ٹویٹر پر کہا:’’دونوں رہ نماؤں (ایگزیکٹو (وزیراعظم) اور قانون سازاسمبلی کے اسپیکر) کی روانگی ایک مقبول مطالبہ رہا ہے اور یہ پوراہوگیا ہے‘‘۔

کویت میں 29 ستمبر کوقومی اسمبلی کو قبل ازوقت انتخابات منعقد ہورہے ہیں۔کویت کے ولی عہد نے حکومت اور اسمبلی کے درمیان تنازع کو حل کرنے کے لیے دو اگست کو سابقہ پارلیمان کو تحلیل کردیا تھا۔اس سے ایک ہفتہ قبل انھوں نے تیل کی دولت سے مالا مال ملک کا نیاعبوری وزیر اعظم مقرر کیا تھا۔

مگرحزب اختلاف کے قانون سازوں نے نئے وزیراعظم اور مرزوق غانم کو اسپیکر کے عہدے سے ہٹانے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ وہ 2013 سے اس عہدے پر فائز تھے۔حزب اختلاف کے ارکان نے ان پر حکومت کا حامی ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔

حکمران امیر کے بیشتر فرائض واختیارات سنبھالنے والے ولی عہد شیخ مشعل الاحمد الصباح نے گذشتہ ماہ پارلیمنٹ کو تحلیل کرتے وقت کہا تھا کہ سیاسی جھگڑے سے قومی اتحاد کو نقصان پہنچا ہے۔

انھوں نے سابق وزیر اعظم کے خلاف پارلیمنٹ میں عدم تعاون کی تحریک سے قبل اورسابق حکومت کے مستعفی ہونے کے بعد جولائی میں امیرکویت کے بیٹے کو نیا وزیر اعظم مقرر کیا تھا۔

کویت کی پارلیمان کو خلیج عرب کے ممالک میں سب سے متحرک اور فعال سمجھاجاتا ہے اور اس کے ارکان وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے وزراء سے تندوتیز چبھتے سوالات پوچھتے رہتے ہیں لیکن حکومت اور پارلیمان کے درمیان برسوں سے جاری سیاسی کشمکش نے کویت میں سرمایہ کاری اور اصلاحات کے عمل کو روک دیا ہے۔

کویت نے اپنی منتخب مقننہ کو دیگر خلیجی ممالک میں اسی طرح کے اداروں کے مقابلے میں زیادہ اثرورسوخ دے رکھا ہے۔ان میں قوانین کی منظوری اور وزرا سے پوچھ گچھ کا اختیار بھی شامل ہے۔کویت نے سیاسی جماعتوں پر توپابندی عاید کررکھی ہے لیکن اس کے ہاں باقی خلیجی ممالک کے مقابلے میں زیادہ کھلا سیاسی نظام ہے حالانکہ ریاستی معاملات میں امیر کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں