روسی تیل کی درآمد افراط زر کنٹرول کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے: بھارتی وزیر خزانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارتی وزیر خزانہ نے روس سے تیل کی درآمد کو بھارت کی افراط زر کنٹرول کرنے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کام بعض دوسرے ملک بھی کر رہے ہیں۔

واضح رہے مغربی ممالک کے دباو کے باوجود بھارت نے یوکرین میں فروری سے جاری روسی جنگی جارحیت کی مذمت نہیں کی ہے۔ البتہ مسئلے کے جمہوری حل کے لیے کہا اور تشدد کے خاتمے کے لیے کہا ہے۔

روس دہائیوں سے بھارت کا سب سے اسلحے کی فراہمی کے حوالے سے سب سے بڑا اور اہم ملک رہا ہے۔ اس لیے دونوں کے درمیان تعلقات بڑی گہرے رہے ہیں۔

بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتا رامن کے مطابق ماہ فروری سے روس سے بھارت تیل کی درآمد اس کے درآمد کیے جانےوالے مجموعی تیل کا 12 سے 13 فیصد تک ہو چکی ہے۔ اس سے پہلے یہ محض 2 فیسد تھی۔

بھارت جسے دنیا بھر میں درآمدہ کردہ خام تیل استعمال کرنے والا سب سے اہم ملک کہا جاتا ہے ۔ بھارتی وزیر خزانہ نے کہا وزیر اعظم نریندرا مودی کو اس کا کریڈٹ ملنا چاہیے کہ انہوں نے کس خوبصورتی کے ساتھ مختلف ملکوں کے ساتھ تجارتی توازن برقرار رکھا ہوا ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا یہ مودی کی مدبرانہ شخصیت کا کمال ہے۔ کہ بھارت بیک وقت دنیا کے مختلف ملکوں کے ساتھ تعلقات کو قائم رکھتے ہوئے بھی روس سے تیل خرید رہے ہیں۔ کئی بھارتی وزیر بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ روس سے تیل کی درآمد جاری رہنی چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں