یواےای کی جی اے اے سی کاطالبان حکومت سے افغانستان میں فضائی ٹریفک کےانتظام کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات کی فرم جی اے اے سی نے جمعرات کو افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ ملک بھر میں فضائی ٹریفک کے انتظام کے ایک معاہدے پر دست خط کیے ہیں۔

طالبان حکومت ملک میں بین الاقوامی پروازوں کی توسیع چاہتی ہے۔اس مقصد کے لیے وہ دارالحکومت کابل کے ہوائی اڈے کو مکمل فعال بنانا چاہتی ہے۔اس ہوائی اڈے کی مکمل بحالی افغانستان کی زبوں حال معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

جمعرات کو ابوظبی میں قائم جی اے اے سی نے اس ضمن میں کابل میں طالبان حکام کے ساتھ ایک معاہدے پر دست خط کیے ہیں۔اس سے توقع ہے کہ بڑی بین الاقوامی ایئرلائنز کو واپس لانے میں مدد ملے گی۔

اس معاہدے کی مالیت 30 کروڑ ڈالر سے زیادہ ہے۔ جی اے اے سی اس کے تحت جنگ زدہ ملک میں شہری ہوابازی کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے 10 سال کی مدت میں سرمایہ کاری کرے گی۔

کمپنی کے علاقائی سربراہ ابراہیم معرافی نے کابل میں ایک پریس کانفرنس میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ معاہدہ جی اے اے سی کو’’بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کی منظوری کے لیے فضائی حدود کو فعال کرنے‘‘کی اجازت دیتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ یہ معاہدہ جی اے اے سی کو افغانستان کے ہوائی اڈوں پر بڑی بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کی واپسی کے لیے درکار نیوی گیشن خدمات کو بحال کرنے کی بھی اجازت دیتا ہے۔اس میں ایئر ٹریفک کنٹرول، مواصلات ،نگرانی کا نظام اور موسمیاتی خدمات شامل ہیں۔

یہ اس سال افغانستان کی شہری ہوا بازی اور نقل و حمل کی وزارت کے ساتھ جی اے اے سی کا طے پانے والا تیسرا معاہدہ ہے۔طالبان کی اقتدار میں واپسی سے قبل افغانستان میں کام کرنے والی فرم جی اے اے سی کو پہلے ہی گراؤنڈ ہینڈلنگ سروسز اور کابل اور دیگر ہوائی اڈوں پر مسافروں کی اسکریننگ کے الگ الگ ٹھیکے دیے جا چکے ہیں۔

افغانستان کے ہوا بازی اور ٹرانسپورٹ کے نائب وزیر غلام جیلانی وفا نے کہا کہ ہمارے دو سابقہ معاہدوں کے باوجود جب افغانستان کی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کی رہنمائی کی بات آئی تو ہمارے آپریشنز میں ابھی بھی کچھ خلا باقی تھا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس سازوسامان کی کمی تھی جبکہ کچھ سازوسامان ٹوٹ گیا تھا اور اس سے ہماری کارروائیاں محدود ہوکررہ گئی تھیں۔

واضح رہے کہ ابھی تک کسی بھی ملک نے طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے لیکن اس کے باوجود اس کے ساتھ بعض حکومتوں نے مختلف شعبوں میں معاہدے کیے ہیں۔کابل کے ہوائی اڈے پر فضائی ٹریفک کنٹرول کا نظام اس وقت ازبکستان اور قطر کے ماہرین کےتربیت یافتہ افغانوں کی ایک ٹیم سنبھال رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں