ماسکو کو ڈرون فراہم کرنے پر واشنگٹن نے تہران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا نے روس کو ڈرون طیارے فراہم کرنے کی پاداش میں ایران پر نئی پابندیاں عاید کی ہیں۔

ان پابندیوں میں بنیادی طور پر ایرانی پاسداران انقلاب کو نشانہ بنایا جائے گا، جو پہلے ہی ایرانی جوہری پروگرام میں اس کے کردار کی وجہ سے واشنگٹن کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے ایک سلسلے کا شکار ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے جمعرات کو ایک بیان میں واضح کیا کہ امریکا، یوکرین میں روسی فوجی آپریشن میں روس کو جنگی ڈرون فراہم کرنے میں ملوث ہونے پر ایرانی پاسداران انقلاب اور متعدد ایرانی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرے گا۔

وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ پابندیاں بنیادی طور پر ایرانی پاسداران انقلاب کو نشانہ بنائیں گی۔ یہ ادارہ "دہشت گرد تنظیموں" کی امریکی فہرست میں درج ہے۔ جو بنیادی طور پر ایرانی جوہری پروگرام میں اس کے کردار کی وجہ سے واشنگٹن کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کا حصہ ہے۔

بیان میں اسسٹنٹ سکریٹری برائے خزانہ برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس برائن نیلسن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ "امریکا روس کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف اپنی تمام پابندیوں کو سختی سے نافذ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ان لوگوں کو جوابدہ ٹھہرانا چاہتا ہے جنہوں نے ایران کی طرح یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کی حمایت کا انتخاب کیا۔

پاسداران انقلاب کے علاوہ امریکی پابندیوں سے ایرانی ڈرونز کی تحقیق، ترقی اور پیداوار میں شامل کئی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا اور ساتھ ہی ان ڈرونز کو روس منتقل کرنے کی ذمہ دار ایرانی کمپنی پر بھی پابندی عاید کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں