ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات 18 ستمبرکو ادا کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

’العربیہ‘ کے نامہ نگار نے جمعرات کو اطلاع دی ہے کہ ملکہ الزبتھ دوم کی آخری رسومات 18 ستمبر کوادا کی جائیں گی۔ جب کہ برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ ملکہ کی میت کی آخری رسومات میں 10 دن لگیں گے۔

دنیا کی سب سے مشہور ملکہ اور برطانیہ کی تاریخ میں طویل ترین مدت تک تخت سنبھالنے والی ملکہ الزبتھ دوئم جمعرات کو 96 برس کی عمر میں بالمورل میں واقع اپنے محل میں انتقال کر گئی تھیں۔ ملکہ کی وفات کے بعد تخت کے وارث کے بارے میں بہت سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔

لندن کے بکنگھم پیلس پر برطانوی پرچم سرنگوں کیا گیا جہاں شام کے وقت بڑی تعداد میں ہجوم جمع ہوا۔پوری دنیا سے تعزیتی پیغامات موصول ہونا شروع ہوگئے۔

ملکہ کے ستر سال کی ریکارڈ مدت تک تخت پر بیٹھنے کے بعد صدیوں پرانے پروٹوکول کے مطابق اس کے بڑے بیٹے 73 سالہ چارلس نے خود بخود اس کی جانشینی اختیار کی۔

بکنگھم پیلس نے اعلان کیا کہ ملکہ جمعرات کی سہ پہر "خاموشی سے" انتقال کر گئیں۔

اعلان کے جاری ہونے کے فوراً بعد محل کے سامنے موجود ہجوم نے ملکہ کو خراج عقیدت پیش کیا اور بہت سے لوگ تو روتے پائے گئے۔

برطانیہ کی نئی وزیر اعظم لز ٹیرس نے کہا کہ آنجہانی ملکہ کی دنیا بھر میں "محبت اور تعریف" کی جاتی ہے۔ انہوں نے شاہی خاندان سے تعزیت کے دوران نئے بادشاہ کو مخاطب کرتے ہوئے "ہز میجسٹی چارلس III۔" کا سرکاری طور پر اعلان کیا گیا اور نئے بادشاہ نے "چارلس III" کا نام لیا ہے۔

پچیس سال کی عمر میں 1952 میں اپنے والد کنگ جارج ششم سے تخت سنبھالنے کے بعد سےملکہ الزبتھ نے برطانیہ کی تاریخ میں مختلف بحرانوں اور مراحل سے گزر کر استحکام کی علامت کی نمائندگی کی ہے۔ وہ عالمی سیاست میں نہرو، چارلس ڈی گال اور منڈیلا جیسے عظیم آدمیوں کے ساتھ رہ چکی ہیں۔یہ سب ملکہ کو اپنا دوست کہتے تھے۔

اپنے دور حکومت میں انہوں نے دیوار برلن کی تعمیراور پھر اس کے گرنے کا مشاہدہ کیا۔ ان کے دور بادشاہت میں امریکا میں 12 صدور گذرے۔

ملکہ کی آخری تصویر برطانیہ کی پندرہویں وزیراعظم لز ٹرس کے ساتھ لی گئی تھئی۔ تصویروں میں وہ ایک چھڑی پر ٹیک لگائے پتلی اور کمزور دکھائی دے رہی تھیں۔

اپنے اقتدار کے ستر سال کے دوران انہوں نے فرض کے غیر متزلزل احساس کے ساتھ اپنا کام کیا اور تمام تر بحرانوں اور مشکل وقتوں کے باوجود اپنی رعایا کی بھرپور حمایت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہیں۔

ملکہ کی صحت تقریباً ایک سال قبل بگڑ گئی تھی اور انہیں ایک سال اسپتال میں گذارنا پڑا۔ اس کے بعد وہ عوامی تقریبات میں دکھائی نہیں دیتی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں