ملکہ کا جسد خاکی لندن پہنچ گیا، چارلس سوم عوام سے خطاب کریں گے

صدیوں پرانے پروٹوکول پر شاہی تخت کی تاریخ میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ملکہ الزبتھ دوم کی وفات سے برطانیہ کی تاریخ کے نئے مرحلے کا آغاز ہو رہا ہے کیونکہ ان کے سب سے بڑے بیٹے چارلس صدیوں پرانے پروٹوکول پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ان کی وفات کے بعد حلف اٹھانے جا رہے ہیں۔

شاہ چارلس برطانوی عوام سے اپنا پہلا خطاب کرنے والے ہیں۔ اس سے قبل بکنگھم پیلس کی جانب سے یہ اعلان کر دیا گیا کہ سابق ولی عہد 73 سالہ چارلس اپنی والدہ کی جگہ پر بادشاہ بن گئے ہیں۔

اسی طرح چارلس وزیر اعظم لز ٹیرس سے بھی ملاقات کریں گے۔ لز ٹیرس کی باضابطہ تقرری منگل کے روز ملکہ الزبتھ نے کی تھی۔ یہ ملکہ الزبتھ کا آخری اہم سرکاری کام تھا۔ لندن شاہی نمائندے کلیئرنس ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ نئے بادشاہ کو شاہ چارلس سوم کے لقب سے جانا جائے گا۔

آنجہانی ملکہ کی میت لندن پہنچا دی گئی ہے۔ دن کے اوقات میں شاہی توپ خانہ کئی علاقوں میں 96 توپوں کے گولے فائر کرے گا اور سینٹ پال چرچ، ویسٹ منسٹر کمپلیکس اور ونڈسر محل کی گھنٹیاں بجائی جائیں گی۔

بعد ازاں شاہی پروٹوکول کے مطابق سینٹ جیمز محل میں ہونے والے اجلاس میں جانشینی کی کونسل چارلس سوم کو برطانیہ کا بادشاہ بنانے کا باقاعدہ اعلان کرے گی۔ ملکہ کی رخصتی پر دس روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

ملکہ الزبتھ دوم کی وفات جمعرات کو سکاٹ لینڈ کے محل بالمورل میں ہوئی۔ انہوں نے ریکارڈ 70 برس تک تخت نشینی کی اور اب اس شاہی تخت کی تاریخ میں ایک نئے مرحلہ رقم کیا جا رہا ہے۔

آنجہانی ملکہ کی آخری رسومات 18 ستمبر کو ادا کی جائے گی۔ ان کی میت کو وسٹ منسٹر کیتھیڈرل میں رکھا جائے گا تاکہ خواہشمند حضرات وہاں ان کا آخری دیدار کر سکیں۔ پھر ویسٹ منسٹر محل میں انہیں اپنے شوہر شہزادہ فلپ کے پہلو میں دفنا دیا جائے گا۔ شہزادہ فلپ کا انتقال گزشتہ برس فروری میں ہوا تھا۔

ملکہ الزبتھ کی وفات کے بعد لندن کے بکنگھم پیلس میں پرچم کو نصف سرنگوں کر دیا گیا اور شام کو ہی بڑی تعداد میں لوگ محل کے باہر جمع ہوگئے اور دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات بھی آنے لگے تھے۔

بکنگھم پیلس نے اعلان کیا کہ ملکہ جمعرات کی سہ پہر پر سکون انداز میں جہاں فانی سے کوچ کر گئی ہیں۔

نئے بادشاہ چارلس نے اظہار افسوس میں "ایک پیاری ملکہ اور پیاری ماں" کے الفاظ ادا کئے۔ انہوں نے بطور بادشاہ اپنے پہلے بیان میں کہا میری پیاری والدہ، محترمہ ملکہ کی وفات میرے اور میرے تمام خاندان کے لئے ایک انتہائی افسوسناک لمحہ ہے۔

ملکہ الزبتھ گذشتہ برس سے چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں دقت جیسے مسائل کا شکار تھیں، وہ چلنے کیلئے عصا کا سہارا لیتی تھیں۔ ایک سال قبل ہسپتال میں رات گزارنے کے بعد ان کی صحت خراب ہو گئی تھی۔ خرابی صحت نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اپنی ورثہ کی رقم اپنے قریبی ورثا کے سپرد کریں۔ ان ورثا میں شہزادہ چارلس اور شہزاد ولیم شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں