جوہری ایران

’بائیڈن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے دوسرے "آپشنز" چاہتے ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے جمعرات کو کہا ہےکہ امریکی صدر جو بائیڈن اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ جوہری معاہدے کی بحالی کی کوششیں ناکام ہونے کی صورت میں ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے امریکا کے پاس "دوسرے آپشنز دستیاب ہونے چاہئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن معاہدے پر عمل درآمد کی بحالی کے لیے دباؤ ڈالتا رہے گا لیکن اس کا صبر "مستقل نہیں ہے۔"

اگرچہ (بائیڈن) نے سفارتی راستےکا اختیار کیا، اس کی حوصلہ افزائی کی اور آگے بڑھایا، لیکن اس نے باقی انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارے پاس اس خاص نتیجے کو حاصل کرنے کے لیے دیگر آپشنز موجود ہیں۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت نہیں۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کی پرامن نوعیت کی "ضمانت نہیں دے سکتی"۔ ایک رپورٹ میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے کہا کہ وہ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ ایران کا جوہری پروگرام خصوصی طور پر پرامن ہے۔

یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

بڑی طاقتوں (امریکا، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے علاوہ جرمنی) اور ایران کے درمیان 2015 میں طے پانے والے ایرانی جوہری معاہدے سے متعلق بین الاقوامی معاہدے کی بحالی کے لیے اپریل 2021 میں ویانا میں بات چیت کا دوبارہ آغاز ہوا مگر امریکا تین سال بعد پیچھے ہٹ گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں